Urdu book · علما اور دینی مدارس

ایک ملاقات

Urdu book, p. 340

By Maulana Wahiduddin Khan

قاضی ثناء اللہ پانی پتی ( وفات 1810) اس آیت کی تفسیر کے تحت لکھتے ہیں: وَقِیْلَ مَعْنَاهُ: لَا تَسْتَوِي الْحَسَنَةُ فِي جُزْئِيَّاتِهَا، وَلَا تَسْتَوِي السَّيِّئَةُ فِي جُزْئِيَّاتِهَا، بَلْ بَعْضُهَا فَوْقَ بَعْضٍ فِي الْحُسْنِ وَالسُّوءِ، فَإِذَا اعْتَرَضَكَ مِنْ بَعْضِ أَعْدَائِكَ سَيِّئَةٌ فَادْفَعْهَا بِأَحْسَنِ الْحَسَنَاتِ، كَمَا لَوْ أَسَاءَ إِلَيْكَ رَجُلٌ فَالْحَسَنَةُ أَنْ تَعْفُوَ عَنْهُ، وَالَّتِي أَحْسَنُ أَنْ تُحْسِنَ إِلَيْهِ ( تفسیر المظہری، جلد 8، صفحہ 296 )۔ یعنی، بعض علما نے آیت کا یہ مطلب بیان کیا ہے کہ نیکیاں سب ایک درجہ کی نہیں ہوتی ہیں، اسی طرح برائیوں کے درجات بھی مختلف ہوتے ہیں۔ اب اگر کوئی دشمن کوئی بدی کرے تو اس کے مقابلہ میں اعلیٰ اخلاق کا مظاہرہ کیا جائے۔ مثلاً کسی نے اگر تمہارے ساتھ بدسلوکی کی ہو تو درگزر کرنا چاہیے ۔ لیکن اعلیٰ نیکی یہ ہے کہ برائی کے بدلے دشمن سے بہترین سلوک کیا جائے ــــــ بد اخلاقی کے جواب میں حسن اخلاق بلاشبہ سب سے اعلیٰ اخلاق ہے۔ به بات اس دل سے ہے،

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page