سوال و جواب
Urdu book, p. 349
By Maulana Wahiduddin Khan
سوال و جواب سوال علما اور اہل مدارس کے لیے الرسالہ مشن کی اہمیت کیا ہے؟ براہِ کرم اِس کو واضح فرمائیں۔ (مولانا سید اقبال احمد عمری، عمرآباد، تمل ناڈو) جواب جدید تعلیم یافتہ طبقے کے علاوہ، ہمارے دعوتی مشن کے اصل مخاطب علما اور مدارسِ عربیہ کے لوگ ہیں، کیوں کہ امکانی طور پر وہ قرآن اور حدیث پر مبنی مشن کے لیے تیار ذہن (prepared mind) کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس کی شرط صرف ایک ہے، وہ یہ کہ مدارسِ عربیہ کے لوگ اپنی ڈی کنڈیشنگ کرسکیں۔ سیکولر اداروں میں پڑھے ہوئے لوگ ہمارے دعوتی مشن کو بھر پور طور پر سمجھ نہیں سکتے۔ وہ اُن اصطلاحوں سے مانوس نہیں ہوتے جن میں ہم کلام کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ زیادہ گہرے علمی اور خالص دینی موضوعات پر میں صرف ان لوگوں سے گفتگو کر پاتا ہوں جن کا تعلیمی بیک گراؤنڈ عربی ہو۔ کیوں کہ جن لوگوں کا تعلیمی بیک گراؤنڈ عربی نہ ہو، اُن سے دینی موضوعات پر بات کرتے ہوئے ان کی ایک حد آ جاتی ہے اور ان سے گفتگو جاری نہیں رہ پاتی۔ اہلِ مدارس کی ڈی کنڈیشنگ کیا ہے، وہ اصلاً صرف ایک ہے، یہ کہ وہ شخصیت پرستی کے خول سے باہر آ جائیں۔ وہ چیزوں کو اپنے اکابر کے بجائے اصول کی حیثیت سے دیکھنے لگیں۔ اہل مدارس اگر ایسا کر سکیں تو اُن کے لیے اعلیٰ معرفت کا دروازہ پوری طرح کھل جائے گا۔ اہل مدارس کو دوسروں کے مقابلے میں، دو چیزیں خصوصی طور پر حاصل رہتی ہیں—ایک، حقائقِ دینیہ سے مانوس ہونا۔ اور دوسرے اصطلاحاتِ دینیہ سے آشنا ہونا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader