سوال و جواب
Urdu book, p. 350
By Maulana Wahiduddin Khan
مزید یہ کہ حدیث کے مطابق ، ایک مومن کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے زمانے سے باخبر ہو: أَن يَكُونَ بَصِیرًا بِزَمَانِهِ (صحیح ابن حبان ، حدیث نمبر 361)۔ علما اور اہل مدارس، دینی اداروں میں تعلیم حاصل کرنے کے باعث ، اسلام کے روایتی علم سے آشنا ہوتے ہیں۔ لیکن عام طور پر وہ اُس صلاحیت سے محروم ہوتے ہیں جس کو مذکورہ حدیث رسول میں بصیرتِ زمانہ “ کہا گیا ہے ، یعنی اپنے زمانے سے باخبر ہونا ۔ ایسی حالت میں علما اور اہل مدارس کے لیے ضروری ہے کہ وہ الرسالہ مشن کے تحت تیار کردہ لٹریچر کا مطالعہ کریں۔ کیوں کہ یہ لٹریچر بصیرتِ زمانہ کی اِس کمی کی تلافی کے لیے تیار کیا گیا ہے ۔ (الرسالہ، دسمبر 2011) سوال اکثر علما یہ سوال کرتے ہیں کہ صاحبِ الرسالہ کا منہجِ اخذ و استدلال کیا ہے ؟ اس سلسلے میں جواب مطلوب ہے۔ (حافظ سید اقبال عمری، عمر آباد، تامل ناڈو) جواب اس معاملہ میں ہمارا منہج وہی ہے جو عملاً تمام علما کا معروف منہج ہے ۔ اس منہج کی اصل صحابی رسول حضرت معاذ بن جبل کی حدیث میں موجود ہے ۔ یہ حدیث سنن الترمذی ، ابوداؤد، اور مسند احمد وغیرہ کتبِ حدیث میں آئی ہے ۔ ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں : عَنْ رِجَالٍ مِن أَصْحَابِ مُعَاذٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ مُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ، فَقَالَ: كَيْفَ تَقْضِي؟، فَقَالَ: أَقْضِي بِمَا فِي كِتَابِ اللَّهِ، قَالَ: فَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِي كِتَابِ اللَّهِ؟، قَالَ: فَبِسُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِي سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، قَالَ: أَجْتَهِدُ رَأْيِي، قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي وَفَّقَ رَسُولَ رَسُولِ اللَّهِ (سنن الترمذي ، حدیث نمبر (1327) - معاذ بن جبل کے بعض ساتھیوں سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader