سوال و جواب
Urdu book, p. 351
By Maulana Wahiduddin Khan
معاذ کو یمن بھیجنے کا ارادہ کیا تو پوچھا: تم کس طرح فیصلہ کروگے ۔ انہوں نے کہا اللہ کی کتاب سے فیصلہ کروں گا۔ آپ نے پوچھا: اگر تم اللہ کی کتاب میں وہ مسئلہ نہ پاؤ؟ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ کی سنت کے مطابق (فیصلہ کروں گا)۔ رسول اللہ ﷺ نے پوچھا: اگر سنتِ رسول میں بھی نہ پاؤ؟ انہوں نے کہا کہ اپنی رائے سے اجتہاد کروں گا۔ رسول اللہ ﷺ کہا: اللہ ہی کے لیے تمام تعریفیں ہیں جس نے رسول اللہ کے رسول کو اس چیز کی توفیق دی۔ اس حدیث کو بعض علما نے ضعیف بتایا ہے۔ لیکن یہ تضعیف خالص فنی بنیاد پر ہے۔ چنانچہ دوسرے علما نے اس کی تصحیح کی ہے، مثلاً ابن القیم الجوزیة۔ اس فنی بحث سے الگ ہو کر دیکھا جائے تو عملاً تمام علما نے اس روایت کو تسلیم کیا ہے۔ کیوں کہ تمام علما کے متفقہ مسلک کے مطابق مصادر شریعت چار ہیں، قرآن، سنت، قیاس، اور اجماع۔ یہ مسلک عین معاذ بن جبل کی روایت کے مطابق ہے۔ میں صرف یہ کہوں گا کہ باعتبار حقیقت مصادر شریعت چار نہیں ہیں، تین ہیں۔ کیوں کہ قیاس اور اجماع دونوں حقیقت کے اعتبار سے ایک ہیں۔ جب قیاس کا لفظ بولا جائے تو اس سے مراد انفرادی قیاس ہوتا ہے اور جب اجماع کا لفظ بولا جائے تو اس سے مراد اجتماعی قیاس۔ قیاس اور اجماع دونوں کی اصل اجتہاد ہے۔ یہاں میں اضافہ کروں گا کہ قرآن میں اجتہاد کا لفظ نہیں آیا ہے۔ البتہ اس کے ہم معنی دوسرا لفظ آیا ہے، اور وہ استنیاط (النساء، 4:83) ہے۔ اجتہاد اور استنباط دونوں کا مشترک مفہوم ایک ہے، اور وہ استخراج (inference) ہے۔ جب کسی معاملہ میں حکم شرعی منصوص انداز میں موجود ہو تو وہاں کسی اجتہاد کی ضرورت نہیں ہوتی۔ لیکن جب کسی معاملہ کا حکم بشکل نص موجود نہ ہو تو وہاں ضرورت ہوتی ہے کہ غور وفکر کر کے متعلقہ معاملہ میں حکم کی شرعی تطبیق (application) کو دریافت کیا جائے۔ اسی عمل کو استخراج کہا جاتا ہے۔ یعنی نص شرعی کے حدود میں رہتے ہوئے ، بطریق استنباط متعلقہ معاملہ کا حل تلاش کرنا۔ (الرسالہ، جنوری 2019)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader