سوال و جواب
Urdu book, p. 357
By Maulana Wahiduddin Khan
مطابق اپنے ذہن کو تیار کرتے ہیں۔ اس علیحدگی پسندی کی بنا پر ان کوشک کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ اس مسئلہ کا حقیقی حل صرف یہ ہے کہ مدارس کے ماحول کو بدلا جائے۔ اور قدیم کے ساتھ جدید کو شامل کرنے کی کوشش کی جائے۔ مدارس کو یا امت مسلمہ کو موجودہ زمانہ میں جو مسائل درپیش ہیں ان کی جڑیں بہت گہری ہیں۔ ان کا سبب دراصل اس بنیادی خامی تک جاتا ہے کہ مدارس میں جو سوچ دی جاتی ہے وہ بجائے خود درست نہیں۔ اسی فکری خامی کے نتیجہ میں وہ تمام چیزیں پیدا ہوئی ہیں جن کو مسائل کا نام دیا جاتا ہے۔ مسائل کا لفظ بظاہر خارجی اسباب کی طرف اشارہ کرتا ہے، حالانکہ ہمارے مسائل تمام تر داخلی اسباب کا نتیجہ ہیں۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں ملت کے موضوع پر ہزاروں کتابیں شائع ہوئی ہیں ۔ عرب دنیا کے امیر شکیب ارسلان کی کتاب "لِمَاذَا تَأَخَّرَ الْمُسْلِمُونَ وَتَقَدَّمَ غَيْرُهُمْ" اور برصغیر ہند کے مولانا ابو الحسن علی ندوی کی کتاب "مَاذَا خَسِرَ الْعَالَمُ بِانْحِطَاطِ الْمُسْلِمِينَ" جیسی بے شمار کتابیں مختلف زبانوں میں چھپی ہیں۔ ان سب کا مشترک انداز یہ ہے کہ ان میں مسلمانوں کے مسئلہ کا مطالعہ عروج اور زوال کی اصطلاحوں میں کیا گیا ہے۔ مطالعہ کا یہ طریقہ بلاشبہ غیر قرآنی ہے۔ قرآن کے مطابق، عروج اور زوال دونوں اضافی ہیں۔ قرآن کے نزدیک دونوں حالتیں ابتلاء کی حالتیں ہیں۔ یہ دونوں ہی کسی قوم کے لیے امتحان (test) کے پرچے ہیں۔ خدا کبھی کسی قوم کو غالب کرتا ہے اور کبھی اُس کو مغلوب کر دیتا ہے۔ دونوں صورتوں میں یہ دیکھنا مقصود ہوتا ہے کہ قوم جب کسی حالت میں مبتلا ہوئی تو اُس نے کس قسم کا رسپانس (response) پیش کیا۔ (الرسالہ، جون 2004) سوال ہندوستان کی کئی یونیورسٹیوں میں اور باہر کی کچھ یونیورسٹیوں میں بھی اسلامک اسٹڈیز کے نام سے شعبے قائم ہیں۔ ہمارے مدارس میں بھی اسلام کے مطالعہ کا انتظام ہے۔ یہ دونوں ایک

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader