سوال و جواب
Urdu book, p. 358
By Maulana Wahiduddin Khan
ہیں یا ان میں کوئی فرق ہے۔ سیکولر یونیورسٹیوں میں اور دینی مدارس میں اس اعتبار سے اگر کوئی فرق ہے تو وہ کیا ہے؟ (ندیم احمد سنابلی، دہلی) جواب سیکولر یونیورسٹیوں میں اسلام کے مطالعہ کا تصور اس سے مختلف ہے جو ہمارے دینی مدارس میں پایا جاتا ہے۔ دینی مدارس میں اسلام کا مطالعہ ایک مقدس الہامی مذہب کے طور پر کیا جاتا ہے۔ جب کہ سیکولر یونیورسٹی میں اسلام یا کسی اور مذہب کا مطالعہ صرف اس لیے کیا جاتا ہے کہ وہ ایک تاریخی ظاہر ہ یا ایک تاریخی واقعہ ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ اصحاب مدارس کے مطالعہ کا طریقہ داخلی (subjective) ہے، اور اصحاب یونیورسٹی کا طریقہ خارجی (objective) ہے۔ اس کو ایک عملی مثال سے سمجھیے۔ مثلاً اسلام کے دور اول میں حسین ابن علی اور یزید ابن معاویہ کی فوجوں کے درمیان مسلح ٹکراؤ ہوا۔ یزید ابن معاویہ کی فوج نے حسین ابن علی کو شہید کر دیا۔ اس واقعہ کو اہل مدرسہ اس نظر سے دیکھیں گے کہ حسین ابن علی پیغمبر اسلام کے نواسے تھے اور پھر اسی جذباتی وابستگی کے تحت اپنی رائے قائم کریں گے۔ اس کے برعکس سیکولر ذہن کے لوگ اس کو سادہ طور پر صرف ایک تاریخی واقعہ کی حیثیت سے لیں گے اور بے لاگ خارجی معلومات کی روشنی میں اس کا اندازہ (assessment) کریں گے۔ اس فرق کا نتیجہ یہ ہوگا کہ صاحب مدرسہ سارے معاملہ کو حسین کی معصومیت اور یزید کے ظلم کے نقطہ نظر سے دیکھیں گے۔ اس کے برعکس، یونیورسٹی کے لوگ خالص خارجی حقائق کی روشنی میں اس پر رائے قائم کریں گے۔ اس فرق کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اہل مدرسہ یہ کہیں گے کہ ”یزید پلید کی فوجوں نے نواسۂ رسول کو مظلومانہ طور پر شہید کیا‘ اس کے برعکس، دوسرا فریق یہ کہے گا کہ حسین ابن علی کے اقدام کی حیثیت دمشق کی خلافت کے نزدیک بغاوفت کی تھی، اس لیے خلافت دمشق کی فوجوں نے حسین ابن علی کے خلاف جو اقدام کیا وہ وہی تھا جو ہر قائم شدہ حکومت کرتی ہے۔ (الرسالہ، اپریل 2002)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader