Urdu book · علما اور دینی مدارس

سوال و جواب

Urdu book, p. 359

By Maulana Wahiduddin Khan

سوال میرا خیال ہے کہ مدرسے کے بچوں کو دینی تعلیم، اللہ اور اس کے رسول کی پیروی کی تربیت کے ساتھ ساتھ انھیں ذریعہ معاش میں خود کفیل بنانے کی بھی فکر کی جائے۔ بچوں کو مدرسے کی تعلیم کے ساتھ ساتھ انھیں ہنر بھی سکھائے جائیں۔ مدرسے میں دینی تعلیم کے ساتھ ان لڑکوں کو سلائی کی تربیت، ٹوپی بنانے کا ہنر، جائے نماز، لکڑی کے سامان تیار کرنے، لکڑی اور لوہے کے پائپ کے فرنیچر تیار کرنے کے ہنر اور کشیدہ کاری کے کام بھی سکھائے جائیں، تاکہ جب یہ لڑکے مدرسے کی تعلیم سے فراغت پا کر دنیاوی زندگی میں قدم رکھیں تو اس لائق ہو سکیں کہ دینی زندگی کے ساتھ ساتھ دنیاوی زندگی بھی سنوارنے میں کامیابی حاصل کر سکیں۔ عام اسکول اور کالجوں میں بھی لڑکوں کو جو تعلیم دی جاتی ہے وہ بھی job oriented یعنی روزگار سے منسلک نہیں ہوتی ہے۔ لیکن ان کی تعلیم چونکہ دنیاوی زندگی کے تقاضوں پر مبنی ہوتی ہے۔ یعنی ان کے courses of studies میں ایسے ایسے سبجیکٹ پڑھائے جاتے ہیں کہ وہ ملازمت کے ممکنہ امتحانات میں بیٹھ کر ملازمت حاصل کرنے کے قابل ہو سکیں ۔ اس کے برعکس، مدرسے کی تعلیمات میں ایسا نہیں ہوتا ہے۔ بلکہ ان کا دائرہ محدود ہوتا ہے۔ ( محمد ابو الکلام، پھلواری شریف، پٹنہ ) جواب اس تجویز سے مجھے اصولی طور پر اتفاق ہے۔ آج کل عام مزاج یہ ہے کہ مدرسے کی تعلیم کے ساتھ کسی ہنر کو شامل کرنے کی بات کی جائے تو لوگ اُس کو پسند نہیں کرتے۔ کہا جاتا ہے کہ اس طرح کی پیوند کاری سے دینی تعلیم کو نقصان ہوگا۔ مگر یہ بات سراسر غلط ہے۔ اس کا ایک تجرباتی ثبوت یہ ہے کہ قدیم روایتی دور میں مدارس کے تعلیمی نظام کے ساتھ عام طور پر خطاطی یا جلد بندی اور طب جیسے پروفیشنل کام کا شعبہ بھی موجود رہتا تھا۔ مگر ایسا نہیں ہوا کہ اس

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page