Urdu book · علما اور دینی مدارس

سوال و جواب

Urdu book, p. 360

By Maulana Wahiduddin Khan

کی بنا پر تعلیم میں نقصان واقع ہو جائے ۔ بلکہ تجربہ برعکس طور پر بتاتا ہے کہ پچھلے دور میں مدارس سے بڑے بڑے علما نکلے ۔ جب کہ موجودہ زمانے میں مدارس سے اُس طرح کے بڑے بڑے علما کی پیدائش تقریباً بند ہو گئی ہے ۔ میری رائے یہ ہے کہ موجودہ زمانے میں کم از کم دو چیزوں کی تعلیم و تربیت کو ہر مدرسے میں ضرور شامل کیا جائے ۔ ایک ہے انگریزی زبان اور دوسری چیز ہے کمپیوٹر ۔ مجھے یقین ہے کہ مرّوجہ تعلیم میں کسی بھی قسم کا نقصان کیے بغیر ان دونوں چیزوں کو مدرسے کے تعلیمی نظام میں شامل کیا جا سکتا ہے ۔ (الرسالہ، جولائی 2006) سوال الرسالہ دسمبر 2005 کے شمارے میں ثانیہ مرزا کے لباس کے بارے میں خبر نامے کے تحت صفحہ 47 پر آپ کا تبصرہ پڑھنے کو ملا تو اس مسئلے پر دوسرے علما کے فتوے بے وزن و بے معنی محسوس ہوئے۔ آپ نے ثانیہ مرزا کے بارے میں جو کچھ فرمایا ہے وہ بلاشبہ درست ہے، اور اس طرح کے سوالات کا اس کے سوا کوئی اور جواب نہیں ہوتا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے دوسرے علما اور اہلِ دانش اس طرح کے نت نئے مسائل کے بارے میں مثبت اور تعمیری و فکری جواب دینے سے ہمیشہ قاصر اور نا کام رہتے ہیں اور نتیجہتاً ان کے غیر متعلق جوابات سے ہمیشہ فتنہ پیدا ہوتا ہے۔ اور اس صورت حال کو دیکھتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ کسی بھی سوال کا جواب سرے سے دینا جانتے ہی نہیں ہیں۔ (غلام نبی کشافی، کشمیر) جواب ہمارے مدارس میں افتاء نویسی کا باقاعدہ شعبہ ہوتا ہے اور اس کے تحت، فتووں کا جواب دینے کی تربیت دی جاتی ہے۔ مگر افتاء نویسی کے اس شعبے میں ایک بنیادی کمی ہے۔ وہ یہ کہ اس شعبے کے تحت ، مسائل فتویٰ تو بتائے جاتے ہیں مگر حکمتِ فتویٰ نہیں بتائی جاتی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page