سوال و جواب
Urdu book, p. 361
By Maulana Wahiduddin Khan
حکمتِ فتوٰی سے میری مراد یہ ہے کہ مفتی کو یہ بتایا جائے کہ اس کو کب فتوٰی دینا ہے اور کب فتوٰی کی زبان استعمال نہیں کرنا ہے۔ مثلاً ایک شخص اگر خود اپنے لباس کے بارے میں فتوٰی پوچھے تو مفتی کو چاہیے کہ وہ اس کا جواب دے۔ لیکن اگر کوئی شخص ثانیہ مرزا کے بارے میں فتوٰی پوچھے، یا کسی امام کے وضع قطع کو لے کر فتوٰی پوچھے تو ایسے معاملے میں مفتی کو یہ جواب دینا چاہیے کہ تم جس کے بارے میں فتوٰی مانگ رہے ہو اس سے جا کر ملو اور اس کو تیار کرو کہ وہ خود اپنے بارے میں فتوٰی پوچھے ۔ موجودہ شکل میں تمہارا طریقہ درست نہیں۔ اسی طرح ایک کیس اگر ملکی قانون کے تحت ، فوج داری کا کیس ہو اور کوئی شخص اس کے بارے میں فتوٰی پوچھے تو مفتی کو یہ کہنا چاہیے کہ یہ ایک عدالتی معاملہ ہے۔ تم اس بارے میں ہم سے فتوٰی مت پوچھو بلکہ اس معاملے میں عدالت سے رجوع کرو۔ اسی طرح اگر کوئی شخص ایک ایسے معاملے میں فتوٰی پوچھے جس میں یقینی ہو کہ مفتی کا فتوٰی مؤثر نہیں ہوگا ۔ مثلاً کوکا کولا کو پینے یا نہ پینے کا مسئلہ، تو ایسے معاملے میں بھی مفتی کو فتوٰی نہیں دینا چاہیے ۔ بلکہ مفتی کو مولانا عبد الحق حقانی کی زبان میں یہ کہنا چاہیے کہ ــ میرا فتوٰی نہیں چلے گا ” کوکا کولا “ چل جائے گا۔ میری قطعی رائے ہے کہ جو شخص قدیم فقہی کتابوں میں لکھے ہوئے مسائل کو جانے اور حالات زمانہ کو نہ جانے، اس کے لیے فتوٰی دینا جائز نہیں۔ (الرسالہ، جولائی 2006) سوال میں ماہ نامہ الرسالہ پچھلے دس برسوں سے مطالعہ کر رہا ہوں ۔ مجھے اس مشن نے بہت اندر تک متاثر کیا ہے، اور مجھے بالکل بدل دیا۔ ایک مرتبہ میں نے آپ سے ملاقات اور انٹرا ایکشن کیا تھا۔ اس وقت آپ نے مجھ سے الرسالہ کے متعلق فیڈ بیک مانگا تھا۔ لیکن میں اس وقت کچھ بول نہ پایا تھا۔ اب اس خط کے ذریعہ میں اسے لکھ رہا ہوں کہ میرے اندر الرسالہ کی وجہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader