Urdu book · علما اور دینی مدارس

سوال و جواب

Urdu book, p. 362

By Maulana Wahiduddin Khan

سے کیا کیا تبدیلیاں آئی ہیں۔ میری پیدائش 1989 میں ہوئی۔ نو سے پندرہ برس کی عمر تک میں نے گھر سے دور رہ کر مدرسہ میں تعلیم حاصل کی ۔ اس کے بعد کالج سے گریجویشن اور ایم اے کیا۔ الرسالہ مشن سے جو فائدہ ہوا، ان میں سے چند یہ ہیں۔ (1) پہلا فائدہ جو الرسالہ نے دیا، وہ ہے اسلام کی روح سے متعارف کرانا۔ میں ایک تعلیم یافتہ گھر میں پیدا ہوا، دینی ماحول میں رہا، مدرسہ سے میں وقت بتایا، مگر دین کو دریافت نہ کر پایا تھا۔ دین کے نام پر جو چیز پایا تھا وہ ہے منفی ذہن، شکائیتیں، مسلک پرستی، اور قوم پرستی، وغیرہ۔ مجھے حیرت ہوتی ہے کہ صبر و شکر جیسی فنڈ امنٹل چیز بھی میں نہیں جان پایا تھا۔ یہ ماہ نامہ الرسالہ نے مجھے سکھایا۔ ماہ نامہ الرسالہ کی بات کو تحقیق کرنے کے لیے میں نے پورے قرآن کو پڑھا، اور ہزاروں احادیث پڑھی، تب جا کر مجھے یقین کے درجے میں صحیح اسلام حاصل ہوا۔ (2) دوسرا از بردست فائدہ یہ ہوا کہ میں نے دین کی سیاسی تعبیر کے انحراف کو سمجھا، اور نام نہاد مجاہد بن کر اپنی زندگی کو ہلاکت میں نہ ڈالا۔ ورنہ بچپن ہی سے مجھے جہاد کو اس طرح بتایا گیا تھا کہ گویا یہی اسلام کا اصل مشن ہے، اور وہی مسلمانوں اور اسلام کے مسئلہ کا حل ہے۔ (3) تیسرا فائدہ یہ ہوا کہ آج آپ کی تعلیمات کی وجہ سے میں یقین (conviction) میں جیتا ہوں ۔ جب میں مدرسہ سے نکلا تھا، نئے زمانے کی تبدیلیوں کو دیکھتا تھا، سمجھ نہیں پاتا تھا کہ سچائی کیا ہے۔ دل میں خدا، رسول اور آخرت کا یقین تو تھا، مگر ماڈرن ایج سے میں انھیں ریلیٹ (relate) نہیں کر پا تا تھا۔ اس کی وجہ سے میں کنفیوزن اور اسٹریس میں جیتا تھا۔ اس طرح میں نے پانچ برس تک گزار دیے ۔ بڑی مشکل کا دور تھا۔ کیوں کہ میں ہر تھاٹ اور ہر ڈسپلن کو پڑھتا، مگر اس میں یقین نہیں پاتا تھا۔ لیکن خدا کے فضل سے میں نے ماہ نامہ الرسالہ کے ذریعہ ماڈرن ایج کو اسلام کے ریفرنس میں صحیح طور پر دریافت کیا۔ مجھے اندھیرے سے روشنی ملی ۔ مندرجہ بالا تبدیلیاں صرف علاماتی تبدیلیاں ہیں۔ ورنہ الرسالہ نے تو مجھے پوری طرح

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page