سوال و جواب
Urdu book, p. 363
By Maulana Wahiduddin Khan
بدل دیا، سب کچھ بدل دیا۔ آئندہ ان شاء اللہ میں اپنا وقت اور پونجی دین کے کام میں صرف کروں گا۔ دعا کیجیے کہ میں دعوت کے کام کو اپنا مشن بنا پاؤں، خدا مجھے معاف کرے، میرا تزکیہ کرے، اور مجھے جنت نصیب کرے۔ آخر میں میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے صحیح معنوں میں دین کا احیا کیا ہے۔ اللہ آپ کی اس عظیم ترین کوشش کو قبول کرے، اور آپ کو اس کا اعلیٰ ترین صلہ دے۔ آمین۔ (محمد اظہر مبارک، بھاگل پور) جواب میرا تجربہ ہے کہ صرف فارمل تعلیم علم کے حصول کے لیے کافی نہیں۔ خواہ وہ سیکولر تعلیم ہو یا دینی مدرسے کی تعلیم۔ فارمل تعلیم جواداروں میں ہوتی ہے، اس میں آدمی کسی دوسرے کی بتائی ہوئی باتوں کا علم حاصل کرتا ہے۔ مگر علم کا خزانہ اس سے بہت زیادہ ہے، جتنا کہ کسی بتانے والے نے آپ کو بتایا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ آدمی فارمل ایجوکیشن کے بعد خود مطالعہ کرے ۔ خود مطالعے سے آدمی، خود در یافت کردہ علم کو حاصل کرے گا۔ اور خود در یافت کردہ علم ہی سے آدمی کو حقیقی معرفت حاصل ہوتی ہے۔ ایجوکیشن کی دو قسمیں ہیں ، فارمل ایجوکیشن اور انقارمل ایجوکیشن۔ الرسالہ مشن کی حیثیت انفارمل ایجوکیشن کی ہے۔ ہماری کوشش یہ ہے کہ فارمل ایجوکیشن پائے ہوئے لوگوں کو انفارمل ایجوکیشن مہیا کی جائے ، تا کہ ان کی علمی کمی پوری ہو۔ دونوں طریقوں میں کوئی ٹکراؤ نہیں ہے ۔ دونوں تعلیمی طریقے ایک دوسرے کے لیے تکمیلی حصہ (complementary part) کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ دونوں طریقوں کو ایک دوسرے سے تقویت حاصل ہوتی ہے۔ مثلاً مدرسے کی تعلیم سے اگر دین کا روایتی علم حاصل ہوتا ہے تو انفارمل ایجوکیشن کے ذریعہ آدمی دور جدید سے واقفیت حاصل کرتا ہے، اور اس میں شک نہیں کہ کسی انسان کے لیے دونوں ہی ضروری ہے۔ (الرسالہ، فروری 2017)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader