Urdu book · علما اور دینی مدارس

جدید انسان کی تلاش

Urdu book, p. 371

By Maulana Wahiduddin Khan

Today in America a new revolution is rising. It is the revolution of our time. It is the only revolution that involves radical, moral, and practical opposition to the spirit of nationalism. It is the only revolution that, to that opposition, joins culture, economic and technological power, and a total affirmation of liberty for all in place of archaic prohibitions. It, therefore, offers the only possible escape for mankind today: the acceptance of technological civilization as a means and not as an end, and—since we cannot be saved either by the destruction of the civilization or by its continuation—the development of the ability to reshape that civilization without annihilating it. (p. 242) یہ ذہن جس کی نمائندگی اس کتاب میں کی گئی ہے، ایک ایسے آدمی کی بے چینی کی طرح ہے جسے خود اپنی بے چینی کا سبب معلوم نہ ہو۔ امریکی نوجوان مادی تہذیب سے، جس کی آخری نمائندگی مارکس نے کی، مکمل طور پر غیر مطمئن ہو چکا ہے۔ وہ دوبارہ اس ’’ماضی‘‘ کو دیکھنے لگا ہے جس کو اس کے باپ دادا نے چھوڑ دیا تھا۔ مگر یہاں ’’ماضی‘‘ کی نمائندگی کرنے والی جو چیز ملتی ہے وہ عیسائیت ہے۔ عیسائیت اپنے موجودہ ڈھانچے کے ساتھ خالص علمی وعقلی ذہن کو اپیل نہیں کرتی۔ اس لیے وہ ’’مارکس‘‘ کے ساتھ ’’مسیح‘‘ کا بھی باغی ہو جاتا ہے۔ تاہم جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ بغاوت کے بعد وہ جس چیز کا طالب ہے، وہ اس کے اپنے الفاظ میں وہی چیز ہے جس کا جواب صرف مذہب کے اندر ہے تو ہم یہ ماننے پر مجبور ہوتے ہیں کہ وہ اپنے مجہول احساس کے ساتھ اسی چیز کی تلاش میں ہے جسے جس کو مذہب کہتے ہیں۔ مصنف نے اپنی کتاب کا نام ’’نہ مارکس نہ مسیح‘‘ رکھا ہے۔ مگر باعتبارِ حقیقت اس کا نام ہونا چاہیے تھا ’’نہ مارکس نہ مروجۂ عیسائیت‘‘۔ میڈالین ایم اوہیئر (Madalyn Murray O'Hair, 1919-1995) امریکہ کی مشہور ترین ملحد خاتون ہیں۔ وہ کھلم کھلا اپنے الحاد کی تبلیغ کرتی ہیں۔ پکے خدا پرست والدین کی یہ بیٹی اپنے بچپن کا ذکر کرتے ہوئے لکھتی ہے:

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page