علما اور دینی مدارس
Urdu book, p. 372
By Maulana Wahiduddin Khan
”مجھجے ان کے اعتقادات کا علم تھا اور احترام بھی کرتی تھی۔ مگر 13 سال کی عمر میں اتوار کا پورا دن انجیل پڑھتے رہنے کے بعد میں اس کی یکسر خلاف عقل باتوں سے متنفر ہو گئی۔“ انسان مذہب کی طرف لوٹنا چاہتا ہے مگر مذہب کی غلط نمائندگی اس کو دوبارہ مذہب سے دور لے جارہی ہے۔ یہ ہے دور جدید کا سب سے بڑا المیہ۔ (الرسالہ، مئی جون 2025) اصل کام سلمان رشدی (پیدائش 1947) کی ایک ناول ہے جس کا نام ہے— آدهی رات کے بچے: “Midnight's Children” اس کتاب میں سلمان رشدی نے ناول کے کردار کے حوالے سے کہا ہے کہ وہ عقیدہ اور بے عقیدگی کے درمیان جھول رہا تھا: “He was…trapped between belief and disbelief.” رشدی کا یہ بیان حقیقت میں اس کے اپنے دل کی آواز ہے۔ دوسرے الفاظ میں اس کا مطلب یہ ہے کہ میں مذہب کے معاملے میں یقین اور بے یقینی کے درمیان لٹکا ہوا ہوں۔ یہ صرف ایک شخص کا معاملہ نہیں ہے بلکہ ایک پوری نسل کا معاملہ ہے۔ سلمان رشدی نے جو بات کہی ہے، وہی بے شمار مسلمانوں کی بات ہے۔ مسلمانوں کی نئی نسل جس کی تعلیم جدید ماحول میں ہوئی ہے اس کا کم از کم 75 فیصد حصہ اسی قسم کی بے یقینی میں مبتلا ہے۔ دسمبر 1988ء میں جب کہ میں امریکا میں تھا، مجھے وہاں کے ایک اسلامی مرکز میں لے جایا گیا۔ یہ مرکز جس خطہ میں واقع ہے وہاں تادم تحریر تقریباً ایک لاکھ مسلمان آباد ہیں۔ میں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader