Urdu book · علما اور دینی مدارس

اصل کام

Urdu book, p. 373

By Maulana Wahiduddin Khan

نے منتظمین سے پوچھا کہ اس علاقہ کے ایک لاکھ مسلمانوں میں سے کتنے لوگ ہیں جو اسلامی مرکز سے جڑے ہوئے ہوں۔ ایک ذمہ دار نے جواب دیا کہ دس فیصد مسلمان ہے۔ حاضرین میں سے دوسرا شخص بولا کہ آپ مبالغہ کر رہے ہیں، بمشکل 5 فیصد تعداد ہوگی جو اس مرکز سے جڑی ہوئی ہو۔ مجھے بتایا گیا کہ جو مسلمان امریکا میں آباد ہیں ان کی نئی نسلوں کی بیشتر تعداد اسلام سے بالکل ناواقف ہو چکی ہے۔ ان کو نماز، روزے سے کوئی مطلب نہیں، جنس اور شراب اور غذا کے معاملہ میں ان کے طریقے وہی ہیں جو دوسرے آزاد خیال امریکیوں کے ہیں۔ وہ بس برائے نام مسلمان ہیں۔ یہ کوئی انکشاف کی بات نہیں۔ ہر وہ شخص جو مسلمانوں کی جدید تعلیم یافتہ نسل سے واقف ہے، وہ اس بات کو بخوبی جانتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ”رشدھی“ ہمارے درمیان ایک نہیں، بلکہ بے شمار تعداد میں ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ کسی کی ”رشدیت“ یعنی مذہب بیزاری ظاہر ہو چکی ہے، اور کسی کی اب تک چھپی ہوئی ہے۔ مسلم نسل کی یہ صورتِ حال موجودہ زمانہ کے مسلم دینی رہنماؤں کے لیے ایک زبردست چیلنج ہے۔ اس صورت حال کا تقاضا ہے کہ جدید سائنٹفک اسلوب اور وقت کی ترقی یافتہ زبانوں میں اعلیٰ معیار کا اسلامی لٹریچر تیار کر کے شائع کیا جائے تاکہ ”ارتداد ذہنی“ میں مبتلا ہونے والے ان بے شمار مسلمانوں کی بے یقینی کو دوبارہ یقین میں تبدیل کیا جا سکے۔ ان کو بے عقیدگی کے دلدل سے نکال کر دوبارہ عقیدہ کی صالح زمین پر کھڑا کیا جائے۔ راقم الحروف نے الرسالہ جولائی 1987ء میں ایک مضمون شائع کیا تھا جس کا عنوان تھا ”دورِ جدید کی تحریکیں“۔ اس مضمون میں جدید لٹریچر کی اہمیت کو بتاتے ہوئے کہا گیا تھا کہ جدید لٹریچر پر دورِ جدید میں اسلام کے احیا کی ایک بنیادی ضرورت ہے۔ مگر کتابوں کے ان گنت انبار کے باوجود، یہ ضرورت ابھی غیر تکمیل شدہ حالت میں پڑی ہوئی ہے۔ حتیٰ کہ لوگوں کے اندر اس کا حقیقی شعور بھی موجود نہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page