Urdu book · علما اور دینی مدارس

اصل کام

Urdu book, p. 374

By Maulana Wahiduddin Khan

میں نے مزید لکھا تھا کہ میں اُردو، عربی، فارسی اور انگریزی میں اپنے چالیس سالہ مطالعہ کی بنا پر یہ کہہ سکتا ہوں کہ موجودہ زمانہ کے مسلم دینی رہنما کوئی ایک بھی ایسی قابل ذکر کتاب وجود میں نہ لاسکے جو جدید سائنٹفک اسلوب اور وقت کے فکری مستوی پر اسلامی تعلیمات کو پیش کرنے والی ہو۔ موجودہ زمانہ میں مسلم رہنماؤں کا اولین اور اہم ترین کام یہ ہے کہ وہ جدید علوم کو پڑھیں ۔ وقت کی زبانوں کو سیکھیں۔ آج کے طریق استدلال اور اسلوب تحریر میں مہارت پیدا کریں ۔ اور اس کے بعد اسلام کی ابدی تعلیمات کو مؤثر اور طاقتور انداز میں پیش کریں تا کہ آج کا انسان اور جدید مسلم نسل اس کو پڑھے اور اس کے ذریعہ سے اپنے کھوئے ہوئے عقیدہ کو دوبارہ حاصل کرے ۔ مگر جدید اسلوب میں طاقتور لٹریچر وجود میں لانا تو درکنار، موجودہ مسلم رہنما قرآن کا ایک صحیح انگریزی ترجمہ بھی تیار کر کے شائع نہ کر سکے۔ ایسی حالت میں مسلم رہنماؤں کا سلمان رشدی جیسے لوگوں کے خلاف ہنگامہ کرنا حقیقتاً خود اپنی بے عملی پر پردہ ڈالنے کے ہم معنی ہے۔ یہ اس کام کا کریڈٹ لینے کی کوشش کرنا ہے جس کو انہوں نے سرے سے انجام ہی نہیں دیا اور قرآن کا فیصلہ ہے کہ جو لوگ کچھ کیے بغیر کریڈٹ لینا چاہیں ان کے لیے خدا کے یہاں عذاب ہے، نہ کہ انعام (3:188)۔ ہمارے لکھنے والوں نے موجودہ زمانہ میں جو اسلامی کتابیں تیار کی ہیں وہ غیر منحرف ذہن کے لیے مفید ہوسکتی ہیں۔ مگر منحرف ذہن کے لیے وہ سراسر غیر مفید ہیں۔ کیونکہ وہ منحرف ذہن کے تقاضے کو بالکل پورا نہیں کرتے۔ ان تمام کتابوں کا یکساں حال یہ ہے کہ ان میں یہ فرق نہیں کیا گیا کہ اعتقادی یا روایتی استدلال کیا ہے اور عقلی یا سائنسی استدلال کیا ہے۔ جو لوگ ان دونوں کا فرق کو نہیں جانتے، وہ جدید نسل کے لیے اسلامی لٹریچر کیسے فراہم کر سکتے ہیں؟ یہ کتابیں تقریباً سب کی سب اعتقادی استدلال کے اصول پر لکھی گئی ہیں۔ اعتقادی استدلال صرف وہاں کارآمد ہوتا ہے جہاں زیر بحث مسئلہ میں دونوں فریق بنیاد استدلال کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page