Urdu book · علما اور دینی مدارس

اعلائے کلمۃ الاسلام

Urdu book, p. 391

By Maulana Wahiduddin Khan

ہندو مذہب کی مائٹھالوجی کے حق میں بطور خود ریشنل پروف فراہم کرنے میں مصروف ہو گئے۔ اسی طرح عیسائیوں میں بڑے بڑے دماغ پیدا ہوئے۔ مثلاً ڈاکٹر بلی گراہم، وغیرہ۔ ان لوگوں نے بھی یہی کیا کہ عیسائیت کے روایتی عقائد، تثلیث اور کفارہ وغیرہ کو بطور خود عقلی بنیاد فراہم کرنے میں مصروف ہو گئے۔ جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے، ان کے یہاں بھی اسی زمانے میں بڑے بڑے دماغ پیدا ہوئے مثلاً سید جمال الدین افغانی، وغیرہ۔ مگر مسلم اہل دماغ ایک اور غلطی میں مبتلا ہو گئے۔ عین اسی زمانے میں یہ ہوا کہ مسلمانوں کو سیاسی زوال پیش آگیا۔ چنانچہ مسلمانوں کے تمام اعلیٰ دماغ پولیٹیکل محاذ پر مصروف ہو گئے۔ کچھ افراد نے پولیٹیکل لڑائی کے لیے اپنی زندگی وقف کر دی۔ کچھ اور افراد نے اسلام کو پولیٹیکل انٹرفریٹیشن دینے کو سب سے بڑا کام سمجھ لیا۔ اس طرح یہ ہوا کہ مسلم اہل دماغ سیاست کے جنگل میں کھو گئے۔ وہ مذکورہ عمل کو آگے بڑھانے میں ناکام رہے۔ یہ حقیقت ہے کہ موجودہ زمانے میں سب سے بڑا کام اعلائے کلمۂ اسلام کا ہے۔ مگر اس کام کے لیے نہ تو مسلح جہاد کی ضرورت ہے اور نہ اسلام کو پولیٹیکل ثابت کرنے سے اسلام میں کوئی پیش رفت ہو سکتی ہے۔ اس قسم کی تدبیروں کے غلط ہونے کے لیے یہی کافی ثبوت ہے کہ دو سو سال تک مسلمانوں کی کئی جنریشن ان راہوں میں قربانی دیتی رہی مگر اصل مطلوب مقصد ایک فیصد بھی حاصل نہ ہو سکا۔ اس پہلو سے موجودہ زمانے کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اسلام نے اپنے حق میں انسانی علم کی بنیاد کھودی ہے۔ یہ علمی بنیاد دوبارہ اس طرح فراہم ہو سکتی ہے کہ اُس عمل کو آخری تکمیل تک پہنچایا جائے، جس کو ہم نے اسپر یچوئیلائزیشن آف سائنس کہا ہے۔ ضرورت ہے کہ مسلمانوں کے اعلیٰ دماغ اس کام میں اپنے آپ کو وقف کریں۔ آج اصل ضرورت یہ ہے کہ مثبت تعمیر کا کام کیا جائے۔ خاص طور پر علمی اور سائنسی تعمیر۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page