عصر حاضر میں تعمیری کام
Urdu book, p. 45
By Maulana Wahiduddin Khan
عصرِ حاضر میں تعمیری کام مسلمانوں نے پچھلے دو سو برس کے اندر کوئی بھی ٹھوس تعمیری کام نہیں کیا۔ موجودہ زمانہ کا سب سے بڑا مسئلہ عقلی نقطہ نظر کا غلبہ تھا۔ موجودہ زمانہ میں عقلی نقطہ نظر نے ایک فکری انقلاب پیدا کیا ہے۔ اس انقلاب نے دینی عقائد کو دور جاہلیت کی چیز قرار دے کر ان کو تاریخ کے خانہ میں ڈال دیا۔ یہاں ضرورت تھی کہ مسلمان اٹھیں اور دینی عقائد اور تعلیمات کو دوبارہ عقلی بنیاد فراہم کریں۔ مگر اس پوری مدت میں منفی ہنگاموں کے سوا مسلمان اور کچھ نہ کر سکے۔ یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ زمانہ میں تبدیلی واقع ہوئی اور دینی عقائد کو دوبارہ عقلی بنیاد فراہم ہونے کے امکانات پیدا ہو گئے۔ مگر یہ کام تمام تر عیسائی اور یہودی علما نے انجام دیا۔ اس میں مسلمانوں کا ایک فی صد حصہ بھی نہیں۔ جدید سائنس نے خدا کو کائنات کے نقشہ سے حذف کر دیا تھا۔ اب دوبارہ خدا کا ئنات کے نقشہ میں نظر آ رہا ہے مگر اس عمل کو انجام دینے والے وہ لوگ ہیں، جن کے نام جیمز جینز اور ایڈنگٹن جیسے ہیں۔ یہی معاملہ تمام دینی تعلیمات کا ہے۔ یہ ہماری خوش قسمتی تھی کہ دنیا میں دوسرے الہامی مذاہب (عیسائیت، یہودیت) بھی موجود تھے۔ اسلام اور ان مذاہب کے درمیان تعلیمات اور تاریخی شخصیتوں کا اشتراک ہے۔ اس لیے انہوں نے اپنی تعلیمات اور اپنی تاریخ کو عقلی اور سائنسی طور پر معتبر ثابت کرنے کے لیے جو تحقیقات کیں اس کا فائدہ بالواسطہ طور پر اسلام کے حصہ میں بھی آ گیا۔ مثلاً علم الآثار کی تحقیق جس نے قرآن میں مذکور اقوام اور شخصیتوں کو تاریخ کی روشنی عطا کی۔ نظریہ ارتقا کی تردید، جس نے خالق کے عقیدہ کو دوبارہ بحال کیا۔ عورت اور مرد کے درمیان حیاتیاتی فرق کو ثابت کرنا جس نے خاندان کے بارے میں اسلامی قوانین کو دوبارہ اعتبار یت (credibility) عطا کی۔ حتیٰ کہ اسلام کی قدیم عربی کتب کو مخطوطات کے دور سے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader