عصر حاضر میں تعمیری کام
Urdu book, p. 46
By Maulana Wahiduddin Khan
نکال کر مطبوعات کے دور میں داخل کرنا بھی انھیں عیسائیوں اور یہودیوں کا کارنامہ ہے۔ غالباً یہ کہنا صحیح ہوگا کہ اسلام کو سمجھنے کے لیے عربی زبان کے بعد سب سے زیادہ جس زبان میں اعلیٰ لٹریچر موجود ہے، وہ انگریزی زبان ہے۔ اس سلسلہ کی ایک دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ سیرت کی مستند کتاب، سیرت ابن ہشام کا مکمل ترجمہ پہلے انگریزی میں ہوا اور اس کے بہت دیر بعد کسی مسلم زبان میں۔ (اوراق حکمت، ڈائری، 15 جون 1985) مولانا عبدالعزیز قاسمی مدرسہ بیت العلوم (دفع احسن سُریاپیٹ، ضلع تلنگندہ) میں استاد ہیں انہوں نے 1983 کا ایک واقعہ بتایا۔ کڈپہ (آندھرا پردیش) میں سیرت النبی کا جلسہ تھا۔ مولانا عبدالعزیز قاسمی بھی اس جلسہ میں مقرر کی حیثیت سے بلائے گئے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ جلسہ سڑک پر ٹرینٹ لگا کر کیا جا رہا تھا۔ شامیانہ کے نیچے فرش اور کرسیاں بھی ہوئی تھیں۔ عین اس وقت ہندوؤں کا ایک جلوس نکلا۔ یہ کسی دیوی کا جلوس تھا۔ وہ گزرتا ہوا جلسہ گاہ کے قریب پہنچ گیا۔ جلسہ کے منتظمین نے جب یہ دیکھا تو ان کے چند افراد آگے بڑھ کر جلوس کے قائدین سے ملے۔ انہوں نے کہا کہ ہم کو معلوم نہ تھا کہ اس سڑک سے آپ کا جلوس نکلنے والا ہے، ورنہ ہم یہاں آج اپنا جلسہ نہ رکھتے۔ بہرحال آپ ہمیں تھوڑا سا وقت دیں، ہم اپنا جلسہ تھوڑی دیر کے لیے روک کر کرٹینٹ اور کرسیاں وغیرہ ہٹا دیتے ہیں۔ آپ کا جلوس جب گزر جائے گا تو اس کے بعد دوبارہ اس کو لگا لیں گے۔ جلسہ سیرت النبی کے لوگوں نے جب اس قسم کی پیشکش کی تو جلوس والوں کے دل نرم پڑ گئے۔ انہوں نے کہا کہ نہیں۔ جیسے ہمارا جلوس ہے ویسے ہی آپ کا جلسہ بھی ہے۔ آپ اپنے جلسہ کو گڑبڑ نہ کریں۔ ہم لوگ بازو کی گلی سے نکل کر پھر سڑک پر آ جائیں گے۔ آپ کا جلسہ بھی جاری رہے گا۔ اور ہمارا جلوس بھی نکل جائے گا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ وہ لوگ راستہ بدل کر آگے چلے گئے۔ مسلمان اگر جلوس کو روکتے تو بات بڑھتی اور فساد ہوتا، مگر جب مسلمانوں نے جلوس کو نہیں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader