علما اور دینی مدارس
Urdu book, p. 47
By Maulana Wahiduddin Khan
روکا تو کچھ بھی نہیں ہوا۔ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہم اگر نرمی اختیار کریں تو وہ لوگ اور زیادہ دلیر ہو جائیں گے، انھیں اس واقعہ سے سبق لینا چاہئے۔ (ڈائری، 10 اکتوبر 1984) مسلمہ دلیل شاہ ولی اللہ دہلوی (1762-1703) نے اپنی مشہور کتاب حجۃ اللہ البالغہ کے دیباچہ میں لکھا ہے کہ ”مصطفوی شریعت کے لیے وقت آ گیا ہے کہ برہان اور دلیل کے پیرامنوں میں ملبوس کر کے اسے میدان میں لایا جائے“۔ شاہ ولی اللہ کی کتاب حجۃ اللہ البالغہ حقیقتاً اسی موضوع پر لکھی گئی ہے، مگر وہ روایتی اسلوب میں ہے۔ قدیم زمانہ روایتی زمانہ تھا۔ قدیم زمانہ میں روایتی استدلال کافی ہوتا تھا، مگر آج کا انسان روایتی استدلال کو کوئی اہمیت نہیں دیتا۔ وہ عقلی اور سائنسی اسلوب میں بات کو سمجھنا چاہتا ہے۔ مثال کے طور پر ہندوستان کے مسلم علما سب کے سب یکساں سول کوڈ کے مخالف ہیں۔ مگر اس کی مخالفت کے لیے ان کے پاس کہنے کی جو بات ہے وہ صرف یہ کہ یہ ہماری شریعت میں مداخلت ہے اور ہم شرعی مداخلت کو برداشت نہیں کر سکتے۔ اس کے جواب میں جدید طبقہ کہتا ہے کہ یہ کوئی دلیل نہیں۔ اگر آپ یکساں سول کوڈ کے خلاف ہیں تو آپ کو عقلی اور سائنسی دلیل سے اسے رد کرنا ہوگا۔ ورنہ آپ کی بات نہیں مانی جائے گی۔ ایسی حالت میں ضروری ہے کہ ہم اپنے نقطہ نظر کو مخاطب کے مسلمہ دلائل سے ثابت کریں۔ (دیکھیں: الرسالہ ستمبر 1995) (ڈائری، 23 جون 1990)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader