عصری اسلوب کی اہمیت
Urdu book, p. 48
By Maulana Wahiduddin Khan
عصرى اسلوب کی اہمیت دکتور عبد العظیم محمود الدیب (پیدائش 1929) کی ایک کتاب ڈاک سے ملی۔ اس کا نام ہے: اَلْمَنْهَجُ فِي كِتَابَاتِ الْغَرْبِيِّيْنَ عَنِ التَّارِيْخِ الْإِسْلَامِيِّ۔ وہ 130 صفحات پر مشتمل ہے۔ اور ربیع الثانی 1411 میں قطر سے چھپی ہے۔ مصنف کہتے ہیں کہ انیسویں صدی کے آغاز سے لے کر بیسویں صدی عیسوی کے وسط تک مستشرق علما نے ساڑھ ہزار کتابیں اسلام کے بارے میں شائع کی ہیں۔ ان کتابوں کا مقصد کیا ہے۔ ان کا ایک خاص مقصد یہ ہے کہ مسلم نوجوانوں کو اسلام سے منحرف کر دیا جائے۔ اپنے اس مقصد میں وہ کافی کامیاب ہوئے ہیں حتى کہ محمد محمد حسین مرحوم کے الفاظ میں ہمارے قلعوں کے لیے آج خود ہمارے اندر سے خطرات پیدا ہو گئے ہیں: حُصُوْنُنَا مُهَدَّدَةٌ مِنْ دَاخِلِهَا (صفحہ 35)۔ یہ صحیح ہے کہ ہماری نئی نسل اسلام کے بارے میں شک و شبہ میں مبتلا ہوئی ہے۔ مگر اس کی اصل وجہ مستشرقین کی کتابیں نہیں ۔ اس کی زیادہ بڑی وجہ یہ ہے کہ خود مسلم علما دین اسلام کو وقت کے فکری مستوى پر پیش نہ کر سکے۔ بیرونی خطرات ہمیشہ موجود تھے اور ہمیشہ موجود رہیں گے۔ لیکن اگر ہم طاقت ور اسلوب میں اسلامی لٹریچر پیش کر سکیں تو اسلام کے خلاف ہر خطرہ اور ہر سازش ان شاء اللہ غیر موثر ہو کر رہ جائے گی ۔ (ڈائری ، 15 اکتوبر (1990) عظیم انقلابی رہنمائی مولانا عبد المتین بنارسی سے گفتگو کرتے ہوئے صحیح مسلم کی اس روایت کا ذکر آیا جو تابیر نخل کے بارے میں ہے اور جس میں ہے کہ آپ نے فرمایا: أَنْتُمْ أَعْلَمُ بِأَمْرِ دُنْيَاكُمْ (حدیث نمبر 2363)۔ یعنی تم اپنے دنیا کے معاملہ کو زیادہ جانتے ہو۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader