Urdu book · علما اور دینی مدارس

علما اور دینی مدارس

Urdu book, p. 58

By Maulana Wahiduddin Khan

چیزیں ہیں جو اس واقعہ کو ظہور میں لا رہی ہیں جس کو مشرقی ذہن کا مغربی دنیا کی طرف نکاس (brain drain) کہا جاتا ہے۔ اجتماعی حالات بے حد نازک ہوتے ہیں۔ ان کے ساتھ بے شمار پیچیدگیاں وابستہ ہوتی ہیں۔ اجتماعی زندگی میں کوئی اصلاحی کام کرنا الجھے ہوئے دھاگے کو سلجھانے کے ہم معنی ہے۔ ایسی حالت میں اجتماعی زندگی میں نعروں کی سیاست لے کر اصلاح کے لیے کھڑا ہونا سنجیدگی کا عمل نہیں ہو سکتا، بلکہ وہ نادانی کی چھلانگ ہوگی ۔ (الرسالہ، جنوری 1989) ٹیم ورک کی اہمیت مولانا مناظر احسن گیلانی ( وفات 1956) ایک بار دار المصنفین (اعظم گڑھ) آئے تھے۔ یہ وہ زمانہ ہے جب کہ مولانا سید سلیمان ندوی ( وفات 1953) یہاں رہا کرتے تھے۔ انہوں نے اپنی ذاتی محنت سے بہت سی اہم کتابیں تصنیف کی تھیں ۔ اس کا ذکر کرتے ہوئے مولانا گیلانی نے کہا۔ یورپ میں جو کام اکادمی کرتی ہے، ہندوستان میں اُس کو ایک آدمی کرتا ہے۔ میں کہوں گا کہ قدیم حالات میں کوئی ایک شخص بھی بڑا کام کر سکتا تھا۔ لیکن موجودہ حالات میں کوئی بڑا کام کرنے کے لیے ٹیم ورک لازمی طور پر ضروری ہو گیا ہے۔ موجودہ زمانے میں علم کا جو اعلیٰ معیار قائم ہوا ہے، اُس اعلیٰ معیار پر کوئی بڑا علمی کام ایک فرد انجام نہیں دے سکتا، اُس کو انجام دینے کے لیے ایک ٹیم درکار ہوتی ہے ۔ چنانچہ موجودہ زمانے میں تمام بڑے بڑے علمی کام ٹیم کے ذریعے انجام پاتے ہیں۔ مسلمان موجودہ زمانے میں وقت کے اعلیٰ معیار پر کوئی کتاب تیار نہ کر سکے۔ اُس کا سبب یہی ہے کہ اُن کے یہاں ابھی تک ایک فرد کتاب لکھتا ہے، اکیڈمک ورک (academic work) کا ابھی تک مسلمانوں کے یہاں رواج نہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page