ٹیم ورک کی اہمیت
Urdu book, p. 59
By Maulana Wahiduddin Khan
اس معاملے میں ایک سبق آموز مثال قرآن کے انگریزی ترجمے کی ہے۔ پرنٹنگ پریس کے زمانے میں، قرآن کے بہت سے انگریزی ترجمے کیے گئے ہیں۔ اکثر انگریزی ترجمے ہمارے یہاں موجود ہیں۔ یہ تمام ترجمے کوشش کے ذریعے تیار کیے گئے ہیں۔ میں عرصہ دراز سے قرآن کے انگریزی ترجمے دیکھتا رہا ہوں۔ میں نے پایا ہے کہ ہر ترجمے میں دو بنیادی کمی پائی جاتی ہے۔ ایک، یہ کہ بہت سے مقامات پر ترجمے غلط کیے گئے ہیں، اور دوسری بات یہ کہ ان ترجموں میں وضوح (clarity) بہت کم ہے۔ قرآن کی خاص صفت یہ ہے کہ اس کے اندر کمال درجے میں وضوح پایا جاتا ہے۔ لیکن ان انگریزی ترجموں میں قرآن کی یہی اہم صفت بڑی حد تک موجود نہیں۔ قرآن کے موجودہ انگریزی ترجموں میں اس کمی کا احساس مجھ کو بہت پہلے ہو چکا تھا۔ یہ احساس مجھ کو ستاتا تھا کہ وقت کی بین اقوامی زبان میں خدا کی کتاب کا صحیح اور مؤثر ترجمہ موجود نہیں۔ میں اس کام کو وقت کے مسلمہ معیار پر کرنا چاہتا تھا۔ اس کے لیے میں نے بہت سے اہل علم کو متوجہ کرنا چاہا، مگر کوئی اس کے لیے تیار نہ ہوا۔ آخر کار میں نے فیصلہ کیا کہ میں خود اس کام کی ذمے داری لوں اور ٹیم ورک کے ذریعے قرآن کا مطلوب انگریزی ترجمہ تیار کرنے کی کوشش کروں۔ پچھلے تقریباً بیس سال سے میں اور میرے ساتھی خاموشی کے ساتھ اس کام میں اپنی کوشش صرف کرتے رہے ہیں۔ میرے سوا، کئی لوگ مثلاً ڈاکٹر فریدہ خانم، ڈاکٹر ثانی اثنین خاں وغیرہ اس مشکل کام میں ڈیڈی کیشن کے ساتھ مشغول رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی توفیق سے قرآن کا یہ انگریزی ترجمہ تیار ہو چکا ہے اور اب (تادم تحریر) اُس کا دوسرا ایڈیشن چھپ رہا ہے۔ یہ انگریزی ترجمہ پورے معنوں میں ٹیم ورک کا نتیجہ ہے۔ اس کے ذریعے پہلی بار قرآن کا ایک ایسا انگریزی ترجمہ وجود میں آیا ہے جو ان شاء اللہ درست بھی ہے اور وضوح (clarity) اُس کے اندر پوری طرح پایا جاتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader