علما اور دینی مدارس
Urdu book, p. 60
By Maulana Wahiduddin Khan
حدیث میں آیا ہے کہ ایک زمانہ آئے گا جب کہ اسلام کا کلمہ ساری دنیا کے ہر گھر (عَلٰی ظَهْرِ الْأَرْضِ بَيْتَ مَدَرٍ وَلَا وَبَرٍ) میں پہنچ جائے گا (مسند احمد، حدیث نمبر 23814)۔ میرا احساس یہ ہے کہ اس حدیث میں کلمہ اسلام سے مراد کلام الہی (Word of God) ہے، یعنی قرآن۔ اس حدیث میں جس واقعے کی پیشین گوئی کی گئی ہے، اُس کا تعلق پرنٹنگ پریس اور انفارمیشن ٹکنالوجی (Information technology) کے زمانے سے ہے۔ یہ صرف موجودہ پریس کے زمانے میں ممکن ہوا ہے کہ قرآن کے مطبوعہ نسخے تمام دنیا کے ہر گھر میں پہنچ دیے جائیں۔ اب جب کہ اللہ کی توفیق سے، وقت کی بین اقوامی زبان میں قرآن کا صحیح ترجمہ وجود میں آچکا ہے، پوری ملت کا یہ فرض ہے کہ وہ متحدہ کوشش کے ذریعے قرآن کے اس نسخے کو سارے عالم تک پہنچادے، وہ اُس کو دنیا کے ہر چھوٹے اور بڑے گھر میں داخل کردے۔ میرا احساس ہے کہ اس طرح قرآن کا ساری دنیا میں، ہر گھر اور ہر مقام میں، پہنچ جانا اتمام حجت کا آخری واقعہ ہوگا۔ انسانی تاریخ غالباً اپنے آخری دور میں پہنچ چکی ہے۔ اس آخری دور میں جو سب سے بڑا دعوتی کام انجام پانا ہے، وہ بلاشبہ یہی ہے کہ خدا کا کلام خدا کے تمام بندوں تک ان کی قابل فہم زبان میں پہنچادیا جائے ۔ (الرسالہ، مارچ 2009) جاننا کافی نہیں بوعلی سینا (370-430 ھ) بڑے عالم فاضل شخص تھے۔ کہا جاتا ہے کہ ایک بار وہ اپنے زمانہ کے ایک بزرگ شیخ ابوالخیر سے ملے اور ان کے یہاں چند دن گزارے۔ بوعلی سینا واپس جانے لگے تو انہوں نے شیخ ابوسعيد ابوالخیر کی خدمت میں رہنے والے ایک شخص سے کہا: آج میں یہاں سے جا رہا ہوں۔ تم ایسا کرنا کہ میرے بعد شیخ میرے بارے میں جو کچھ کہیں وہ تم ایک خط میں لکھ کر میرے پاس بھیج دینا۔ میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ شیخ کا خیال میرے بارے میں کیا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader