جاننا کافی نہیں
Urdu book, p. 61
By Maulana Wahiduddin Khan
بو علی سینا کی واپسی کو کئی دن گزر گئے مگر شیخ ابوسعید ابوالخیر نے ان کے بارے میں کوئی بات نہ کہی۔ اچھا یا برا کسی قسم کا تبصرہ نہیں کیا۔ بالآخر کئی دن کے انتظار کے بعد مذکورہ شخص نے شیخ سے سوال کیا کہ حضرت، آپ کے پاس بو علی سینا آئے تھے، وہ آپ کی نظر میں کیسے آدمی ہیں۔ شیخ ابوسعید ابوالخیر نے جواب دیا کہ وہ ایک اچھے حکیم ہیں اور ان کے پاس بہت علم ہے۔ مگر وہ مکارم اخلاق نہیں رکھتے۔ مذکورہ شخص نے شیخ ابوسعید ابوالخیر کا یہ تبصرہ ایک کاغذ پر لکھا اور اس کو بو علی سینا کے پاس بھیج دیا۔ بو علی سینا نے اس کو پڑھا تو ان کو بڑا اچھا لگا۔ انہوں نے مذکورہ شخص کو اس کا جواب لکھ کر بھیجا۔ اس جواب میں انہوں نے یہ لکھا کہ مجھے تمھاری تحریر پر تعجب ہے۔ میں نے مکارم اخلاق پر بہت سی کتابیں لکھی ہیں۔ پھر شیخ میرے بارے میں کیسے کہہ سکتے ہیں کہ میں مکارم اخلاق نہیں جانتا۔ مذکورہ شخص نے بو علی سینا کا یہ جواب شیخ ابوسعید ابوالخیر کو بتایا۔ وہ اس کو سن کر مسکرائے اور کہا: من این نگفتم که مکارم اخلاق نداند، گفته ام که ندارد (فوائد الفواد، صفحه 451)۔ یعنی، میں نے یہ نہیں کہا کہ وہ مکارم اخلاق نہیں جانتے، میں نے یہ کہا کہ وہ مکارم اخلاق نہیں رکھتے۔ ایک چیز ہے ”جاننا“ اور ایک چیز ہے ”ہونا“۔ جاننا ذہن اور حافظہ کی سطح پر ہوتا ہے۔ اور ہونا آدمی کے پورے وجود کی سطح پر۔ جاننے والا آدمی صرف جانتا ہے اور ہونے والا آدمی خود اس میں شامل ہو جاتا ہے۔ جاننا بہت آسان ہے۔ کوئی بھی شخص پڑھ کر اور سیکھ کر دین و اخلاق کی باتوں کو جان سکتا ہے۔ مگر ہونا اتنا ہی زیادہ مشکل ہے۔ ہونے کے لیے آدمی کو اپنے آپ کو پیس ڈالنا پڑتا ہے۔ کیونکہ پسا ہوا سفوف ہی پانی میں گھلتا ہے نہ کہ جے ہوئے ٹکڑے۔ مگر اصل اہمیت اعتبار کی ہے۔ اور حقیقت کی دنیا میں جو کچھ اعتبار ہے، وہ ہونے کا ہے، نہ کہ جاننے کا۔ جس جاننے کے ساتھ ہونا نہ ہو، حقیقت کی دنیا میں اس کی کوئی قیمت نہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader