علما اور دینی مدارس
Urdu book, p. 67
By Maulana Wahiduddin Khan
جو آدمی مین آف اسٹیج (man of stage) بن جائے، وہ بظاہر کامیاب نظر آتا ہے، لیکن حقیقت کے اعتبار سے وہ سب سے زیادہ ناکام انسان ہوتا ہے۔ اس کے اندر تنقید سننے کا مزاج ختم ہو جاتا ہے۔ اس کے اندر ذہنی ارتقا کا عمل رک جاتا ہے۔ وہ تخلیقی فکر (creative thinking) کے قابل نہیں رہتا۔ وہ صرف آج (today) میں جینے لگتا ہے، کل (tomorrow) کی سوچ اس کے اندر ختم ہو جاتی ہے۔ وہ دوسروں کے اندر جینے لگتا ہے، خود اپنے آپ میں جینا کیا ہے، وہ اس سے نا آشنا ہو جاتا ہے۔ ایسا آدمی بظاہر پاتا ہے، لیکن حقیقت کے اعتبار سے وہ ایک محروم انسان ہوتا ہے۔ اس کو ہر جگہ انسانوں کی بھیڑ ملنے لگتی ہے، لیکن فرشتوں کی صحبت اس کو حاصل نہیں ہوتی۔ وہ مادی اعتبار سے بھر پور ہوتا ہے، لیکن روحانی (spiritual) اعتبار سے وہ ایک خالی انسان ہوتا ہے ۔ وہ بظاہر سب کچھ ہونے کے باوجود حقیقت میں کچھ نہیں ہوتا۔ (الرسالہ، جولائی 2019) زیادہ بڑی طاقت دو صاحبات ملاقات کے لیے آئے۔ دونوں دار العلوم دیوبند کے فارغ التحصیل تھے۔ ان سے گفتگو کے دوران میں نے کہا کہ قرآن ہمارے اندر یہ ذہن بنانا چاہتا ہے کہ ہم عصر میں یسر کو دیکھیں ۔ مگر موجودہ زمانہ میں ہمارے علما اس کا ثبوت نہ دے سکے ۔ میں نے کہا کہ ہمارے علما فخر کے ساتھ کہتے ہیں کہ انگریزوں نے پروفیسر آرنلڈ کے ذریعہ کتاب پر بیچنگ آف اسلام (1896) لکھوائی تا کہ مسلمانوں کے عمل کا رخ سیاسی جہاد سے ہٹا کر دعوت و تبلیغ کی طرف موڑ دیں ، مگر علما ئے وقت اس سے متاثر نہیں ہوئے۔ اسی طرح 1930 میں انگریزوں نے علما کو یہ پیش کش کی کہ دہلی میں صفدر جنگ مقبرہ کا پورا علاقہ جو کئی کلومیٹر میں پھیلا ہوا ہے، آپ لوگوں کو دے دیا جائے گا۔ یہاں آپ لوگ تعلیم و تبلیغ کا ادارہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader