Urdu book · علما اور دینی مدارس

علما اور دینی مدارس

Urdu book, p. 68

By Maulana Wahiduddin Khan

قائم کریں اور سیاسی ٹکراؤ کے میدان سے الگ ہو جائیں۔ مگر علما نے اس پیش کش کو حقیر سمجھ کر نظر انداز کر دیا اور بدستور انگریز کے خلاف سیاسی لڑائی میں مشغول رہے۔ اس کے بعد میں نے کہا کہ اگر ان علما نے قرآن وسنت کا گہرا مطالعہ کیا ہوتا تو وہ اس کو عین اسلام کے حق میں سمجھتے اور اس کو قبول کر لیتے ۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ عین وہی صورت حال تھی جو واقعہ حدیبیہ کے وقت پیش آئی ۔ قریش نے مسلمانوں سے دس سال کا نا جنگ معاہدہ کر کے سمجھا کہ ہم نے مسلمانوں سے ان کی تلوار چھین لی ۔ حالاں کہ اصل صورت حال یہ تھی کہ انہوں نے مسلمانوں سے ”تلوار“ چھین کر زیادہ بڑی طاقت انھیں دے دی ، اور وہ دعوت کے کھلے مواقع تھے ۔ چنانچہ دعوت کی تسخیری طاقت ظاہر ہوئی اور صرف دو سال کے اندر مکہ فتح ہو گیا۔ اسی طرح انگریز اگرچہ علما سے ”تلوار“ چھین رہے تھے ، مگر اس کے بدلے وہ انھیں عالمی سطح پر تعارف اسلام کے ایسے کھلے مواقع دے رہے تھے جو بلاشبہ ہر تلوار سے زیادہ تسخیری طاقت رکھتے ہیں ۔ علما کے شمیری جہاد کا نتیجہ عملاً اسلام اور مسلمانوں کے حق نہیں نکلا۔ لیکن اگر وہ اُس وقت دعوت کے میدان میں متحرک ہو جاتے تو آج خطہ برصغیر کی تاریخ بالکل دوسری ہوتی۔ (ڈائری، 17 اگست 1989) فتوں کی شریعت پرنٹنگ پریس 1440 ء میں ایجاد ہوا۔ اس کا موجد جرمنی کا گوٹن برگ (Johannes Gutenberg) ہے۔ مسلم دنیا میں پرنٹنگ پریس زیادہ دیر میں عام ہوا۔ 1727ء میں ترکی میں ابراہیم متفرقہ نامی شخص نے پرنٹنگ پریس قائم کیا۔ پریس کا قیام کوئی معمولی واقعہ نہ تھا ...... (مگر اس وقت کے ) با اقتدار علما نے اسے ”بدعت“ تصور کیا، شیخ الاسلام نے فتویٰ دیا کہ (اس پر) مذہبی کتابوں کا چھاپنا شرعاً ممنوع ہے۔ (اشخاص وافکار، ضیاء الحسن فاروقی، صفحہ 17-16 ، این سی پی یوایس ایل، نئی دہلی، 2011)۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page