Urdu book · علما اور دینی مدارس

علما اور دینی مدارس

Urdu book, p. 69

By Maulana Wahiduddin Khan

حرمت کے فتووں کا رواج اصحابِ رسول کے زمانے میں موجود نہ تھا۔ بعد کے زمانے میں جب امت میں زوال آیا تو علما تقلید کی روش پر قائم ہو چکے تھے۔ وہ ہر نئی چیز کو توحش کی نظر سے دیکھنے لگے۔ وہ ہر نئی چیز کو شریعت کے خلاف سمجھنے لگے۔ یہی وہ زمانہ ہے جب کہ حرمت کے فتووں کا رواج عام ہوا۔ بدقسمتی سے یہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔ ’’حرمت کی شریعت‘‘ کے اس رواج کا سبب کیا ہے۔ اس کا سبب زمانے سے بے خبری (unawareness) ہے۔ بعد کے زمانے میں علما اپنے وقت کی علمی ترقیوں سے بے خبر ہو گئے۔ اس بنا پر وہ ہر نئی چیز کو غلط سمجھنے لگے۔ اگر یہ علما جدید حالات سے واقف ہوں، اگر وہ وقت کے علمی معیار پر نئے مسائل کا سامنا کرنے کی اہلیت رکھتے ہوں تو وہ نئے حالات کا مطالعہ کریں گے۔ وہ علمی انداز میں اس کا تجزیہ کریں گے۔ اور پھر وقت کی علمی سطح پر اس کی نوعیت کو بیان کریں گے۔ وہ تکفیر کی زبان استعمال کرنے کے بجائے علمی تجزیہ کی زبان استعمال کریں گے۔ بلکہ وہ نئے پیدا شدہ حالات کو اپنے ذہنی ارتقا کے لیے فکری خوراک بنا لیں گے۔ مگر بدقسمتی سے بعد کے زمانے کے مسلم علما اس اہلیت کا ثبوت نہ دے سکے۔ ہر چیز جو ان کی سمجھ میں نہیں آئی، اس پر وہ منفی رد عمل کا اظہار کرنے لگے۔ یہ ذہنی جمود کی حالت ہے۔ اور ذہنی جمود کی حالت اسلام میں مطلوب نہیں۔ (الرسالہ، جولائی، 2016) تنگ ذہنی نہیں مولا نا بدر جمال اصلاحی (42 سال) ملاقات کے لیے آئے۔ وہ سرائمیر اعظم گڑھ کے رہنے والے ہیں اور آج کل جامعۃ الرشاد اعظم گڑھ میں استاد ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ عرب عالم محمد المجدوب کی ایک کتاب مشاهداتی فی الہند ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے تفصیل سے میرا ذکر کیا ہے اور لکھا ہے کہ وحید الدین خاں جس انداز میں دین کی خدمت کر رہے ہیں، وہی آج دین کی خدمت کرنے کا صحیح طریقہ ہے، وغیرہ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page