Urdu book · علما اور دینی مدارس

علما اور دینی مدارس

Urdu book, p. 70

By Maulana Wahiduddin Khan

مولانابدرجمال صاحب نے بتایا کہ ایک عالم دین سعودی عرب گئے۔ وہاں ان کی ملاقات شیخ محمد المجدوب سے ہوئی۔ انہوں نے ان سے کہا کہ وحیدالدین خاں کا آپ نے اپنی کتاب میں اتنے شاندار انداز میں تذکرہ کیا ہے۔ حالاں کہ وہ تو ایک بے حیثیت آدمی ہیں۔ شیخ محمد المجدوب نے جواب دیا کہ اس معاملہ میں آپ مجھے معاف رکھیں ۔ کیوں کہ آپ لوگوں (ہندوستانی علما) کا ذہن بہت تنگ ہے۔ وہ اپنے سوا کسی کا اعتراف کرنا نہیں جانتے۔ (ڈائری ، 4 فروری 1990) دو آپشن کے درمیان مولانا ابوالکلام آزاد (وفات 1958) نے اپنے بارے میں لکھا ہے : ”زمانے نے میری صلاحیتوں کی قدر نہ کی......“ مولانا آزاد کے اس جملے کا مطلب یہ تھا کہ پیدائشی فطرت کے اعتبار سے، وہ اعلیٰ صلاحیت کے مالک تھے، لیکن دوسرے لوگوں نے اُن کو نہیں پہچانا، اِس لیے ان کی صلاحیت پوری طرح استعمال نہ ہوسکی۔ مولانا ابوالکلام آزاد کا یہ احساس صرف ایک آدمی کا احساس نہیں ہے۔ تاریخ میں بہت سے ایسے انسان ہیں جو اپنے احساس کے اعتبار سے غیر استعمال شدہ شخصیت کی حیثیت سے جئے اور اسی احساس کے ساتھ وہ اس دنیا سے چلے گئے۔ ایسے افراد کو بظاہر دوسرے لوگوں سے شکایت تھی ، مگر حقیقت یہ ہے کہ ایسے افراد اپنے اس احساس کے لیے تمام تر خود ذمہ دار تھے، نہ کہ کوئی دوسرا شخص۔ خالق نے موجودہ دنیا کو جس قانون کے تحت بنایا ہے، اس کے مطابق ، کسی انسان کے لیے یہاں صرف دو میں سے ایک کا انتخاب (option) ہے۔ ایک یہ کہ وہ کسی دوسرے کے بنائے ہوئے اسٹیبلشمنٹ کے آگے سرینڈر کرے، یا وہ اپنے لیے ایک خود تعمیر کردہ دنیا (self-created world) کو تخلیق کرے اور اس کے اندر اپنی مرضی کے مطابق رہے۔ ان دو کے سوا کوئی اور انتخاب کسی شخص کے لیے ممکن نہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page