Urdu book · علما اور دینی مدارس

علما اور دینی مدارس

Urdu book, p. 81

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن میں دینی تعلیم کا جو تصور دیا گیا ہے، وہ یہ ہے کہ اس کے ذریعہ ایسے افراد تیار ہوں، جو اقوام عالم پر انذار کا کام کریں (التوبہ، 122)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دینی اداروں کا اہم ترین مقصد یہ ہے کہ وہ قوم کے افراد کو عمل کا خارجی نشانہ دے سکیں۔ تاہم خارجی نشانہ سے میری مراد پرامن خارجی نشانہ ہے، نہ کہ اس قسم کا جارحانہ خارجی نشانہ جس کو موجودہ زمانہ کے جھوٹے قائدین نے دریافت کیا ہے۔ خارجی نشانہ سے میری مراد وہی چیز ہے جس کو قرآن میں انذار کہا گیا ہے۔ یعنی پرامن انداز میں اسلام کے پیغام سے اہل عالم کو باخبر کرنا۔ موجودہ مدارس میں اگر تعلیم کے ساتھ اقوام عالم کے درمیان تعارف اسلام کے عمل کو بھی اس کی صحیح اور مؤثر صورت میں شامل کر دیا جائے تو مدارس زیادہ با مقصد بن جائیں اور زیادہ مفید بھی۔ (الرسالہ، جنوری، 1985) ہمارے مدارس صحابہ ہمیشہ اساسات دین پر متوجہ رہتے تھے۔ مگر بعد کو عباسی خلافت کے زمانہ میں دوسری قوموں کے اثر سے مسلمانوں کا یہ حال ہوا کہ وہ اساسات دین کے بجائے جزئیات دین کو طے کرنے میں الجھ گئے ۔ ان کے درمیان عجمی قوموں کے اختلاط سے نئے نئے مسائل پر بحثیں ہونے لگیں۔ یہ بحثیں حقیقتاً ان امور پر تھیں، جو قرآن وحدیث میں واضح الفاظ میں بیان کیے گئے ہیں۔ بلکہ زیادہ تر ان پہلوؤں پر تھیں جو لوگوں نے اپنے غیر ضروری قسم کے خوض و تعمق سے خود پیدا کیا تھا۔ فقہ میں جزئیاتی امور پر بحثیں پیدا ہوگئیں اور اعتقادیات میں کلامی موشگافیوں سے پیدا شدہ مسائل لوگوں کی توجہ کا مرکز بن گئے۔ اس صورت حال کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس وقت جو اسلامی نظام تعلیم بنا، اس میں انھیں فقہی اور اعتقادی بحثوں نے سب سے زیادہ جگہ حاصل کر لی۔ حتی کہ خود قرآن وحدیث بھی اب انھیں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page