Urdu book · علما اور دینی مدارس

علما اور دینی مدارس

Urdu book, p. 82

By Maulana Wahiduddin Khan

اختلافی بحثوں کی روشنی میں پڑھائے جانے لگے۔ یہ انداز تعلیم جو ابتداءِ عباسی دور میں رائج ہوا، بعد کو مقدس بن کر اسلامی نظام تعلیم کا لازمی جزء بن گیا اور آج بھی وہ کسی نہ کسی طرح اس کا لازمی جزء بنا ہوا ہے۔ جو چیز صرف اسلام کی تاریخ تھی اس کو اسلام کی حقیقت سمجھ لیا گیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اسلامی درس گاہوں سے بالکل مختلف انسان بن کر نکلنے لگے جو قرآن کو مطلوب تھے۔ قرآن (35:28) کے مطابق، اللہ تعالیٰ کو اسلامی تعلیم سے ایسے انسان مطلوب ہیں جو اللہ سے ڈریں (اِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ)، اور جیسا کہ قرآن میں دوسری جگہ (9:122) ہے، وہ دنیا کے لوگوں کو آنے والے سخت دن سے ہوشیار کریں (لِيُنْذِرُوا قَوْمَهُمْ إِذَا رَجَعُوا إِلَيْهِمْ)۔ مگر اب اسلام کے تعلیمی نظام سے ایسے لوگ پیدا ہونے لگے جو جزئیاتی بحثوں کے ماہر ہوں اور اختلافی مسائل میں کمالِ فن کی داد دے سکیں۔ اس فرق کا ایک بڑا نقصان یہ ہوا کہ ہمارے مدارس سے وہ مطلوبہ نتیجہ حاصل نہ ہو سکا جس مقصد کے لیے وہ قائم کیے جاتے ہیں۔ اگر آپ خدا کی عظمت کا تذکرہ کریں اور جنت و جہنم کو یاد کریں تو آپ کے اندر خشوع اور تقویٰ کے جذبات پیدا ہوں گے۔ اس کے برعکس، اگر آپ ظاہری جزئیات اور لفظی موشگافیوں میں بحث و مباحثہ کریں تو اس سے آپ کو صرف قساوت کی غذا ملے گی۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہمارے مدارس سے بڑی تعداد میں ایسے لوگ نکلتے ہیں جن میں خشوع اور تقویٰ کے بجائے غفلت اور قساوت پائی جاتی ہے۔ (الرسالہ، مئی 1985) ایک سبق آموز واقعہ ایک دیوبندی عالم سے ملاقات ہوئی۔ دوران گفتگو انہوں نے بتایا کہ ایک بار ہمارے مدرسہ میں امتحان کے پرچہ میں ایک سوال یہ تھا کہ اخلاق اور معاشرت سے متعلق دو حدیث لکھیے۔ مگر بہت کم طلبہ اس کے جواب میں دو حدیث لکھ سکے۔ حالانکہ انہیں طلبہ کا حال یہ تھا کہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page