Urdu book · علما اور دینی مدارس

علما اور دینی مدارس

Urdu book, p. 83

By Maulana Wahiduddin Khan

رفع یدین اور اس قسم کے دوسرے اختلافی مسائل پر سوال ہو تو وہ اس کے جواب میں گھنٹوں تقریر کر سکتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان طلبہ کو جب حدیث کی کتابیں پڑھائی جاتی ہیں تو استاد اخلاق اور معاشرت جیسی حدیثوں کی صرف لفظی قرأت کر کے گزر جاتا ہے مگر جب رفع یدین اور آمین بالجہر جیسے اختلافی مسائل آتے ہیں تو وہ ان پر کئی کئی دن تک تقریر کرتا ہے اور ان پر اپنی معلومات کا دریا بہاتا ہے۔ یہ طریقہ درس ظاہر ہے کہ اسی قسم کے علما پیدا کرے گا جس کا ذکر مذکورہ دیوبندی عالم نے کیا۔ (ڈائری، 14 فروری 1998) اعتراف بھوپال کے قریب ایک گاؤں کا واقعہ ہے۔ لوگ عام طور پر جاہل اور نماز وغیرہ سے بے تعلق تھے۔ ایک عالم اس گاؤں میں جانے لگے۔ انہوں نے لوگوں کو غیرت دلائی اور ان کو جوڑ کر نماز پر آمادہ کیا اور وہاں جمعہ بھی قائم کیا۔ اب وہاں پنج وقتہ نماز اور جمعہ ہونے لگا۔ اس کے بعد ایسا ہوا کہ شاہ محمد یعقوب مجددی (1203-1339ھ) کا اس گاؤں میں جانا ہوا۔ اگلے دن جمعہ تھا۔ لوگوں نے کہا کہ آپ کل تک یہاں ٹھہریں اور کل آپ ہی یہاں جمعہ پڑھائیں۔ حضرت شاہ صاحب کی نظر مسئلہ پر گئی۔ انہوں نے کہا کہ ایسے چھوٹے گاؤں میں مسئلہ کی رو سے جمعہ کی نماز جائز نہیں۔ یہ کہہ کر وہ شہر واپس آگئے تاکہ یہاں جمعہ کی نماز ادا کر سکیں۔ اس کے بعد مذکورہ عالم کا اس گاؤں میں جانا ہوا۔ انہوں نے دیکھا کہ وہاں نماز کا نظام ٹوٹ گیا۔ لوگوں نے اپنے گاؤں میں نماز جمعہ کی ادائیگی چھوڑ دی اور کسی بڑے مقام پر بھی جمعہ پڑھنے کے لیے نہیں گئے۔ لوگوں نے شکایت کی کہ آپ نے یہاں جمعہ قائم کر دیا اور حضرت پیر صاحب آئے تھے تو انہوں نے بتایا کہ اس گاؤں میں جمعہ کی نماز جائز ہی نہیں ۔ چنانچہ ہم نے جمعہ پڑھنا چھوڑ دیا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page