علما اور دینی مدارس
Urdu book, p. 84
By Maulana Wahiduddin Khan
مذکورہ عالم یہ صورت دیکھ کر بہت پریشان ہوئے اور فوراً روانہ ہو کر حضرت شاہ صاحب کے پاس پہنچے۔ انہوں نے حضرت شاہ صاحب سے پوچھا کہ کیا آپ نے گاؤں والوں سے یہ کہا ہے کہ یہاں جمعہ کی نماز جائز نہیں۔ حضرت شاہ صاحب نے کہا ہاں میں نے کہا ہے۔ اور مسئلہ تو یہی ہے۔ مذکورہ عالم نے کہا کہ حضرت آپ درست فرماتے ہیں۔ مگر صورت حال یہ ہے کہ اس گاؤں کے لوگ نماز چھوڑے ہوئے تھے۔ ان کو کہہ سن کر نماز کی طرف متوجہ کیا ہے۔ شرائط جمعہ کے مسائل اپنی جگہ صحیح ہیں۔ مگر ابھی ان لوگوں میں اتنی رغبت نہیں کہ وہ جمعہ کی خاطر سفر کر کے باہر جائیں اور مرکزی مقام پر جمعہ کی نماز ادا کریں۔ ان کی مزاج کی رعایت کرتے ہوئے میں نے وہاں جمعہ کی نماز شروع کرا دی تھی تاکہ کسی طرح وہ عادی ہو جائیں۔ حضرت شاہ محمد یعقوب مجددی نے یہ سنا تو فرمایا کہ آپ بالکل صحیح کہتے ہیں۔ مجھ سے غلطی ہوگئی۔ اس کے بعد اگلے جمعہ کو وہ دوبارہ گاؤں میں گئے اور لوگوں سے کہا کہ مذکورہ عالم کا جمعہ قائم کرنا بالکل صحیح تھا۔ ”اصل یہ ہے کہ میں نے متن دیکھا تھا، حاشیہ نہیں دیکھا۔ حاشیہ میں وہ مسئلہ موجود ہے جو مولوی صاحب نے تم لوگوں کو بتایا۔ اب تم لوگ پہلے کی طرح یہاں نماز ادا کرو۔“ اس کے بعد خود وہاں کے لوگوں کے ساتھ نماز ادا کی۔ پھر شہر واپس آئے۔ (الرسالہ، اپریل 1981) فرد کی اصلاح عام طور پر لوگوں کا حال یہ ہے کہ کسی شخص کے اندر کوئی خرابی کی بات دیکھتے ہیں، تو وہ غیر جانب دار (indifferent) ہوجاتے ہیں۔ لوگ صرف اپنے بچوں کی خرابیوں کی اصلاح کے معاملہ میں سنجیدہ ہوتے ہیں، دوسروں کی خرابیوں کی اصلاح سے انھیں کوئی دلچسپی نہیں ہوتی۔ میری مراد یہاں انفرادی اصلاح سے ہے۔ کیوں کہ میں اجتماعی اصلاح کے نام پر اٹھنے کو لیڈری سمجھتا ہوں، نہ کہ حقیقتاً اصلاحی کام۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader