Urdu book · علما اور دینی مدارس

علما اور دینی مدارس

Urdu book, p. 85

By Maulana Wahiduddin Khan

مگر میرا حال یہ ہے کہ میں کسی فرد کے اندر کوئی خرابی دیکھتا ہوں، تو فوراً دل بے چین ہوجاتا ہے۔ مثلاً 23 ستمبر 1978 کا واقعہ ہے۔ میرے یہاں ایک مسلم اسکالر آئے۔ وہ سگریٹ پر سگریٹ پی رہے تھے۔ میں نے انھیں سمجھا بجھا کر آمادہ کیا کہ وہ سگریٹ چھوڑ دیں۔ چنانچہ انہوں نے سگریٹ پھینک دی، اور میری ڈائری میں یہ الفاظ لکھے: ” آج تاریخ 23 ستمبر 1978 سے میں نے سگریٹ چھوڑ دی۔ اللہ تعالیٰ مجھے اپنے اس عہد پر قائم رکھے۔“ اسی طرح حفوظ الرحمن عظیم قاسمی 19 نومبر 1978 کو میرے دفتر میں آئے۔ ان کے ساتھی نے بتایا کہ وہ ہر شخص کی تقریر کو دہر سکتے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے قاری طیب صاحب، مولانا انظر شاہ صاحب کی تقریروں کو بالکل انھیں کی آواز میں دہرا دیا۔ تاہم مجھے اس سے خوشی نہیں ہوئی۔ میں نے کہا کہ جب آپ کا حافظہ اتنا غیر معمولی ہے، تو آپ اس کو نقل کے بجائے کسی زیادہ بہتر کام میں استعمال کریں۔ مثلاً آپ انگریزی پڑھیں۔ اچھا حافظہ ہونے کی وجہ سے آپ بہت آسانی سے نئی زبان سیکھ سکتے ہیں۔ انہوں نے اتفاق کیا اور میری ڈائری پر یہ الفاظ لکھے: ” میں اللہ کو گواہ بنا کر یہ وعدہ کرتا ہوں کہ اس کے بعد کسی کی تقریر نہیں دہراؤں گا، ان شاء اللہ۔“ (اوراقِ حکمت، ڈائری، 19 فروری 1985) اسلامی تربیت آج جامعہ ملیہ (اسلامک اسٹڈیز) کے تین طالب علم ملاقات کے لیے آئے۔ ان میں سے ایک انعام الرحمن فلاحی تھے۔ وہ جامعۃ الفلاح سے فارغ ہیں، اور اب اسلامک اسٹڈیز میں ایم اے کر رہے ہیں۔ انعام الرحمن فلاحی صاحب کے والد کا نام مولانا رفیق عالم قاسمی ہے۔ وہ جماعت اسلامی کے رکن ہیں نیز مرکز جماعت اسلامی میں ایک ذمہ دارانہ عہدہ پر ہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page