علما اور دینی مدارس
Urdu book, p. 86
By Maulana Wahiduddin Khan
انعام الرحمن فلاحی صاحب نے بتایا کہ انہوں نے اپنے والد سے کہا کہ ”میں مولاناوحید الدین سے ملنے کے لیے جانا چاہتا ہوں۔“ ان کے بیان کے مطابق مولانا رفیق قاسمی صاحب نے جواب دیا کہ ”جاؤ، مگر وہاں استفادہ کی نیت سے بیٹھنا۔“ اسی کا نام اسلامی تربیت ہے۔ انعام الرحمن فلاحی کے والد اگر ان سے یہ کہتے کہ تم کو اگر ملنا ہے تو جماعت اسلامی کے کسی عالم سے ملو تو وہ اپنے بیٹے کو تہذّب کی تعلیم دیتے ۔ اگر وہ یہ کہتے کہ مولاناوحیدالدین تو ایک نزاعی شخص ہیں تو وہ اپنے بیٹے کے اندر غیر علمی نقطہ نظر پیدا کرتے۔ اگر وہ یہ کہتے کہ مولاناوحیدالدین تو ہند و لابی کے آدمی ہیں تو وہ اپنے بیٹے کے اندر الزام تراشی کا مزاج پیدا کرتے۔ اس کے برعکس، جب انہوں نے اپنے بیٹے سے مذکورہ جملہ کہا تو ان کا یہ جملہ اپنے بیٹے کے لیے مثبت لائنوں پر تربیت کا ذریعہ بن گیا۔ (ڈائری، 21 اپریل 1997) جائز حدود کے اندر دہلی میں ایک امام مولانا قاسم قاسمی ہیں۔ وہ رودگراں کی مسجد میں امامت کرتے ہیں اور اس کے ساتھ مدرسہ حسین بخش میں قرآن کا درس دیتے ہیں۔ مگر وہ مسجد اور مدرسہ سے کوئی معاوضہ نہیں لیتے ۔ وہ تعویذ گنڈے کا بھی کاروبار نہیں کرتے۔ وہ ان تدبیروں سے بھی بہت دور رہتے ہیں جن کے ذریعہ لوگ چندے اور ہدایہ وصول کرتے ہیں۔ اس کے باوجود جمنا پار (گونڈہ) میں انہوں نے اپنا ذاتی مکان بنالیا ہے۔ ان کے یہاں دو ٹیلی فون لگا ہوا ہے۔ ایک گھر پر اور ایک مطب میں، وغیرہ۔ یہ کامیابی انہوں نے کس طرح حاصل کی۔ اس کا راز محنت ہے۔ وہ فن طب سے واقف ہیں اور مرکب دوائیں خالص اجزاء کے ساتھ بناتے ہیں اور ان کو معقول منافع کے ساتھ بھیجتے ہیں۔ اس طرح انہوں نے اپنی جائز کمائی سے وہ سب کچھ حاصل کر لیا ہے جو دوسرے لوگ غلط طریقوں سے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader