Urdu book · علما اور دینی مدارس

علما اور دینی مدارس

Urdu book, p. 87

By Maulana Wahiduddin Khan

حاصل کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جائز حدود میں وہ سب کچھ حاصل کیا جاسکتا ہے جس کے لیے آدمی جائز حد کو توڑ کر نا جائز کے دائرہ میں داخل ہو جاتا ہے۔ (ڈائری، 28 مارچ 1995) نقصان میں فائدہ ڈاکٹر عنایت اللہ سبحانی جامعۃ الفلاح ( بلریا گنج ، اعظم گڑھ) میں استاد ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سعودی عرب کے تحت مدارس کے آخری جماعت کے طلبہ اور نوجوان اساتذہ کی تدریب کا انتظام اس سال بمبئی میں رکھا گیا تھا۔ مولانا سبحانی کا ایک لڑکا جو جامعۃ الفلاح سے فارغ ہوا ہے، اس کے پاس دعوت نامہ نہیں آیا تھا، تاہم خبر سن کر وہ بھی بمبئی پہنچ گیا۔ وہاں جب وہ تدریبی پروگرام کے ہندوستانی ذمہ دار سے ملا تو انہوں نے سب سے پہلے دعوت نامہ کا مطالبہ کیا۔ جب اس نے بتایا کہ اس کے پاس دعوت نامہ نہیں ہے تو فوراً ہی انہوں نے اس کو لینے سے انکار کر دیا۔ وہ لڑکا مایوس ہو کر وہاں کی مسجد میں چلا گیا۔ نماز کا وقت ہوا تو تدریب کے سعودی شیوخ نماز کے لیے مسجد میں آئے۔ یہاں ایک شیخ سے مذکورہ نوجوان کی ملاقات ہوگئی۔ اس نے اپنا قصہ بتایا۔ سعودی شیخ نے کہا کوئی ہرج نہیں، تم میرے ساتھ چلو۔ انہوں نے پروگرام کے ناظم سے کہہ کر اس کو تدریب میں شامل کرا دیا۔ آخر میں جب امتحان ہوا تو یہ نوجوان پوری جماعت میں فرسٹ آیا۔ اس نے 96 فیصد نمبر حاصل کیے ۔ یہ اس بات کی ایک مثال ہے کہ اس دنیا میں نقصان میں بھی فائدہ ہوتا ہے۔ مذکورہ نوجوان کو جب تدریبی پروگرام کے ناظم نے رد کر دیا تو اس کو سخت جھٹکا لگا۔ اس بنا پر بعد کو جب اسے پروگرام میں شامل کیا گیا تو اس نے ان طالب علموں سے زیادہ محنت کی، جن کو نہایت آسانی کے ساتھ داخلہ مل گیا تھا۔ اس نے دوسروں سے زیادہ محنت کی۔ اس نے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page