علما اور دینی مدارس
Urdu book, p. 88
By Maulana Wahiduddin Khan
اساتذہ کے درس کو زیادہ توجہ سے سنا۔ زیادہ اہتمام کے ساتھ نوٹ تیار کیے ۔ اس طرح اس کی بڑھی ہوئی محنت کا یہ نتیجہ نکلا کہ پوری جماعت میں ٹاپ کیا۔ (ڈائری ، 7 دسمبر 1996) ایک لفظ کا فرق ایک صاحب جن کی تعلیم ایک مدرسہ میں ہوئی ہے۔ 12 دسمبر 2017 کو ان سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے 2005 میں میں آپ سے ملا تھا۔ اس وقت میں نے کہا تھا کہ میرے اندر احساسِ کمتری بہت زیادہ ہے۔ اس کا کوئی حل بتائیے ۔ میں نے کہا کہ آپ صرف ایک لفظ بدل دیجیے۔ ابھی تک آپ احساسِ کمتری کا لفظ بولتے ہیں۔ آج سے آپ احساسِ غلطی کا لفظ بولنا شروع کر دیجیے۔ اس کے بعد ان شاء اللہ آپ کا سارا معاملہ درست ہو جائے گا۔ آج کی ملاقات میں انہوں نے بتایا کہ یہ بات آپ نے ایک ڈائری میں لکھی اور وہ ڈائری مجھ کو دے دی۔ اسی وقت سے میں نے اس نصیحت کو پکڑ لیا ہے۔ اب میں یہ کرتا ہوں کہ ہمیشہ اپنی غلطی کو دریافت کرتا ہوں، اور اس کی اصلاح کی کوشش کرتا ہوں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ میرے سارے معاملات درست ہو گئے ۔ گھر کے معاملات بھی، پڑوسیوں کے معاملات بھی، اور مسجد اور مدرسے کے معاملات بھی ۔ پہلے میں برابر ٹینشن میں رہتا تھا، اب مجھے کوئی ٹینشن نہیں۔ کسی سے کوئی شکایت نہیں۔ کسی سے کوئی جھگڑا نہیں۔ اب میں یہ کرتا ہوں کہ کوئی مسئلہ پیش آتا ہے تو میں خود ہی سوچ کر اس کو درست کر لیتا ہوں۔ اب سب لوگ مجھ سے خوش رہتے ہیں۔ جب کہ پہلے ہر شخص کو مجھ سے شکایت ہوتی تھی۔ یہ کرشمہ صرف ایک پر حکمت بات کا تھا۔ وہ یہ کہ اس سے پہلے وہ غلط تقابل (comparison) کا شکار تھے۔ اب انہوں نے احساس کمتری کے جملے کو بدل کر احساس

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader