Urdu book · علما اور دینی مدارس

امام ابوحنیفہ کا معاشی مسلک

Urdu book, p. 95

By Maulana Wahiduddin Khan

امام ابو حنیفہ کا معاشی مسلک بھٹکل کے سفر (اکتوبر 1984) میں ایک صاحب نے ایک مسجد کا واقعہ بتایا، جس میں بڑی نصیحت ہے۔ ایک شخص نے اس مسجد میں نماز پڑھی۔ اس کے بعد مسجد کے موذن سے پوچھا کہ مجھے ایک نیا جوتا بنوانا ہے، کسی اچھے جوتے ساز کا پتہ بتاؤ تا کہ میں اس سے اپنا جوتا بنوا سکوں۔ موذن نے امام صاحب کی طرف اشارہ کیا جنہوں نے ابھی ابھی وہاں نماز پڑھائی تھی۔ مسافر کو یقین نہیں ہوا۔ مگر جب وہ مسجد کے باہر نکلا تو اس نے دیکھا کہ مسجد کے نیچے ایک دکان میں وہی شخص جوتا بنانے میں مشغول ہے، جس نے ابھی نماز کے وقت مسجد میں امامت کی تھی۔ مسافر نے دکان میں جا کر امام صاحب سے گفتگو کی اور ان کو اپنے جوتے کا آرڈر دے دیا۔ بتانے والے نے بتایا کہ یہ امام صاحب عام جوتا سازوں سے کافی زیادہ قیمت پر جوتا بناتے ہیں۔ اس کے باوجود ان کے یہاں خریداروں کی بھیڑ لگی رہتی ہے۔ کیوں کہ ان کے متعلق لوگوں کو اطمینان ہے کہ ان کا بنایا ہوا جوتا پوری طرح قابل اعتماد ہوگا۔ ہمارے ائمہ اور مدرسین جو امام ابو حنیفہ کے فقہی مسلک پر بہت زور دیتے ہیں اگر وہ امام ابو حنیفہ کے اس ”معاشی مسلک“ کو بھی اختیار کر لیں تو ملت کے آدھے جھگڑے خود بخود ختم ہو جائیں اور اسی کے ساتھ اس کے آدھے مسائل بھی۔ (الرسالہ، جنوری 1985) ناموافق حالات ترقی کا زینہ بن گئے ایک ”ملا جی“ دہلی کی ایک مسجد میں امام تھے۔ امامت کے علاوہ ان کی ذمہ داری یہ بھی تھی کہ وہ روزانہ قرآن کا درس دیں۔ ان تمام خدمات کا معاوضہ تھا— ماہانہ 25 روپے تنخواہ، مسجد میں ایک حجرہ اور دو وقت کا کھانا۔ نوجوان ملا جی اس مختصر معاوضہ پر قانع ہونے کے لیے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page