Urdu book · علما اور دینی مدارس

امام ابوحنیفہ کا معاشی مسلک

Urdu book, p. 96

By Maulana Wahiduddin Khan

تیار تھے۔ ان کا خیال تھا کہ یہ مسجد میرے لیے کم از کم ایک ٹھکانا تو ہے۔ یہاں رہ کر میں اپنے بچے کی تعلیم پوری کرالوں گا۔ میں نہیں تو میرا بچہ مستقبل میں بہتر معاشی زندگی حاصل کرلے گا۔ مگر مسجد کے لوگوں کا سلوک ان کے ساتھ اچھا نہ تھا۔ ہر نمازی ان کو اپنا ملازم سمجھتا۔ ذرا ذرا سی بات میں ہر آدمی ان کے اوپر برس پڑتا اور ان کو ذلیل کرتا۔ کوئی فرش کے لیے، کوئی جھاڑو کے لیے، کوئی لوٹے کے لیے، کوئی کسی اور چیز کے لیے ان پر بگڑتا رہتا۔ وہ معاشی تنگی برداشت کر سکتے تھے۔ مگر ذلت ان کے لیے برداشت سے باہر تھی۔ بالآخر انہوں نے ایک نیا فیصلہ کیا۔ انہوں نے طے کیا کہ مجھے اپنی زندگی کو مستقل طور پر مسجد سے وابستہ نہیں رکھنا ہے۔ بلکہ اپنے لیے کوئی دوسرا کام پیدا کرنا ہے۔ تاہم فوری طور پر مسجد چھوڑنا بھی برا تھا۔ کیونکہ مسجد کی امامت چھوڑنے کے بعد مسجد کا حجرہ ان سے چھن جاتا۔ اور شہر میں دوسری جگہ حاصل کرنا ان کے لیے ممکن نہ تھا۔ انہوں نے مسجد کی امامت کرتے ہوئے شہر کے طبیہ کالج میں داخلہ لے لیا اور خاموشی کے ساتھ طب کی تعلیم حاصل کرنے لگے۔ طبی تعلیم کی تکمیل میں ان کو پانچ سال لگ گئے۔ اس دوران وہ مسجد کے لوگوں کے برے سلوک کو پہلے سے بھی زیادہ خوش اسلوبی کے ساتھ برداشت کرتے رہے۔ نئے فیصلے میں کامیاب ہونے کے لیے ضروری تھا کہ وہ صبر کریں۔ ذلت کی زندگی سے نکلنے کی خاطر ذلت کی زندگی کو چند سال اور برداشت کریں۔ بالآخر وہ وقت آیا کہ انہوں نے طبی کالج سے ڈاکٹری کی سند حاصل کرلی۔ اب انہوں نے مسجد والوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے امامت سے استعفیٰ دے دیا اور شہر کے ایک محلہ میں ایک جگہ کرایہ پر لے کر اپنا مطب کھول لیا۔ ان کی زندگی کے تلخ تجربات اور مستقبل کی خاطر ان کی طویل جدوجہد نے ان کو بہت کچھ سکھا دیا تھا۔ انہوں نے نہایت محنت اور ہوشیاری کے ساتھ اپنا مطب چلایا۔ صرف چھ ماہ بعد ان کی آمدنی اتنی ہوگئی کہ ایک مکان لے کر وہ بچوں کے ساتھ ب فراغت رہنے لگے۔ ایک سال کے بعد انھیں مقامی طبی کالج میں لیکچرر کی جگہ بھی مل گئی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page