علما اور دینی مدارس
Urdu book, p. 97
By Maulana Wahiduddin Khan
اس طرح ان کی معاشی زندگی میں مزید استحکام پیدا ہو گیا۔ کل کے ملاجی اب ڈاکٹر صاحب بن کر زندگی گزار رہے ہیں ۔ ان کو عزت بھی حاصل ہے اور معاشی فارغ البالی بھی۔ زندگی کے ناموافق حالات زندگی کے نئے زہنے ہوتے ہیں جن کو استعمال کرکے آدمی آگے بڑھ سکتا ہے۔ بشرطیکہ وہ ناموافق حالات سے نفرت اور شکایت کا سبق نہ لے۔ بلکہ مثبت ذہن کے تحت اپنے لیے نیا مستقبل بنانے میں لگ جائے ۔ (الرسالہ، مئی 1982) یہ احترام نہیں، ناقدری ہے فقہ کی کتابوں میں علی مرغینانی (511-593ھ) کی کتاب ”ہدایہ“ بہت مشہور اور مقبول کتاب ہے۔ علمائے احناف کے فتاوی کا مدار زیادہ تر اسی پر ہے۔ اگر کوئی شخص کہے کہ ہدایہ کی جلدوں کو سمجھ کر پڑھنے یا اس کا مطالعہ کرنے کی ضرورت نہیں۔ بس اس کی ”تلاوت“ کر لینا کافی ہے ۔ اس کو جلی حرفوں میں چھپوا لیا جائے اور الفاظ کی صحیح ادائیگی کی ضمانت کے لیے اعراب بھی لگا دیے جائیں اور اس کے بعد لوگوں کو دے دیا جائے کہ وہ صبح و شام اس کے الفاظ کو دہر الیا کریں۔ اگر کوئی ایسا کہے تو سارے علما اس کے مخالف ہو جائینگے۔ مگر حیرت انگیز بات ہے کہ قرآن کے بارے میں وہ ٹھیک اسی عمل پر راضی ہو گئے ہیں۔ جو بات انھیں شامی اور درمختار اور ہدایہ اور کنز الدقائق کے معاملہ میں بے معنی نظر آتی ہے، وہی بات قرآن کے معاملہ میں عین مطلوب بن گئی ہے۔ مجھے ایک بار سفر میں ایک نوجوان کی ہم راہی کا اتفاق ہوا۔ یہ ایک فیض یافتہ نوجوان تھا اور صوم وصلوٰۃ کا نہایت پابند تھا۔ وہ اپنے گلے میں ایک حمائل لٹکائے ہوئے تھا۔ ہمیشہ باوضو رہتا اور جہاں موقع ملتا، قرآن کھول کر اس کی تلاوت شروع کر دیتا۔ اس کا ذوق شوق دیکھ کر میں نے کہا: آپ عربی زبان بھی سیکھ لیجیے تا کہ جب آپ قرآن پڑھیں تو اس کو سمجھ بھی سکیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader