Urdu book · علما اور دینی مدارس

علما اور دینی مدارس

Urdu book, p. 98

By Maulana Wahiduddin Khan

میری اس بات کے جواب میں اس نے جو کچھ کہا وہ عام مسلمانوں کی نفسیات کی مکمل ترجمان تھی: ”ہم تو صرف ثواب کے لیے قرآن پڑھتے ہیں۔“ یہ حال اس کتاب کا ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے اس کے اتارنے کا مقصد ہی یہ بتایا ہے کہ لوگ اس پر غور کریں اور اس سے نصیحت اور عبرت حاصل کریں (ص، 38:29) (الرسالہ، مئی 1978) تعمیر شعور ایک عالم ملاقات کے لیے آئے۔ وہ ایک بڑے عربی دینی مدرسہ سے فارغ ہیں اور مدرسہ کے چندہ کے لیے ہر سال سفر کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ اس سلسلہ میں کئی بار انڈمان جا چکے ہیں۔ انڈمان کے لیے کلکتہ سے پانی کے جہاز کے ذریعہ جانا ہوتا ہے۔ یہ مسلسل پانچ دن کا سفر ہے۔ بڑے جہاز میں ڈھائی ہزار آدمی ہوتے ہیں۔ پانچ سو آدمی صرف عملہ کے ہوتے ہیں۔ اس میں پولیس کے لوگ بھی موجود ہوتے ہیں۔ اس طرح کی بہت سی معلوماتی باتیں انہوں نے بتائیں۔ میں نے کہا کہ آپ نے کئی بار سمندر کے ذریعہ انڈمان کا سفر کیا ہے۔ کسی سفر میں کوئی خاص سبق آموز بات جو آپ کو ملی ہو، وہ بتائیے ۔ مگر وہ کوئی سبق کی بات نہ بتا سکے۔ اسلامی نظام کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ اس کے تمام ادارے اور اس کی سرگرمیاں (education oriented) ہوں، مدرسہ، مسجد، اجتماع، قیادت اور صحافت سب اس طرح چلائے جائیں کہ ان سے مسلمانوں کا شعور بیدار ہوتا رہے۔ مگر یہی وہ اصل چیز ہے جس سے ہمارے تمام ادارے بالکل خالی ہیں۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کا کوئی ادارہ بھی شعور کی تربیت کا کام نہیں کر رہا ہے۔ یہ بلاشبہ موجودہ مسلمانوں کی سب سے بڑی کمی ہے۔ (ڈائری،

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page