Urdu book · وطن سے محبت: اسلامی فکر کی روشنی میں

وطن سے محبت: اسلامی فکر کی روشنی میں

Urdu book, p. 9

By Maulana Wahiduddin Khan

بعد مدینہ ہی میں آپ کی قبر بنائی گئی۔ اس سے معلوم ہوا کہ مکہ کے بارے میں آپ کا مذکورہ جملہ شرعی نوعیت کا نہ تھا۔ اگر اس کی حیثیت شرعی ہوتی تو یقیناً آپ فتح کے بعد مکہ میں رہ جاتے۔ مگر مکہ پر قبضہ کے باوجود آپ کا مدینہ چلے جانا ثابت کرتا ہے کہ یہ جملہ شرعی نہ تھا، بلکہ وہ وطنی محبت کے جذبہ کے تحت نکلا ہوا ایک جملہ تھا۔ (ڈائری، 12 نومبر 1996) عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ آپ کا یہ ارشاد اس لیے تھا کہ مکہ ایک مقدس شہر ہے، مگر میں سمجھتا ہوں کہ آپ کا یہ ارشاد وطن کے جذبے کے تحت تھا۔ یہ اسی جذبے کا اظہار تھا جو ہر انسان کے اندر اپنے وطن کو چھوڑتے وقت پیدا ہوتا ہے۔ بعد کے زمانے میں مسلمانوں میں نعت گوئی کا رواج ہوا۔ ان نعتوں میں ہمیشہ مدینہ کی عظمت بیان کی جاتی ہے۔ میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ ان نعتوں میں مکہ کی عظمت بیان کی جاتی ہو۔ اگر مکہ مطلق طور پر مقدس شہر ہو تو ان نعتوں میں مکہ کی تعریف ہونی چاہیے تھی، نہ کہ مدینہ کی۔ (ڈائری، 14 ستمبر 2006) نیشنلزم اور حب الوطنی 1971 کے نصف اول کا واقعہ ہے۔ میں نے بذریعہ ٹرین پاکستان (لاہور اور فیصل آباد) کا سفر کیا۔ جب میں ہندوستانی سرحد پار کیا اور دوسری جانب پہنچا تو میرے قلی نے ایک فوجی افسر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ میجر صاحب آپ کو بلا رہے ہیں۔ اس کے بعد قلی نے مجھے ایک بند فوجی خیمے کے اندر پہنچا دیا۔ وہاں ایک پاکستانی فوجی افسر بیٹھا ہوا تھا۔ اس خیمے میں صرف ہم دو آدمی تھے۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب کہ بنگلہ دیش کی جنگ کی تیاریاں ہو رہی تھیں۔ اس مسئلہ کی وجہ سے انڈیا اور پاکستان میں سخت تناؤ پیدا ہو گیا تھا۔ اس خیمہ میں پاکستانی فوج کے افسر نے مجھ سے ایسی گفتگو شروع کی جو میرے نزدیک

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page