Urdu book · وطن سے محبت: اسلامی فکر کی روشنی میں

تمہید

Urdu book, p. 8

By Maulana Wahiduddin Khan

وطن سے محبت ایک فطری حقیقت حضرت عمر فاروق نے ایک بار فرمایا کہ اللہ نے ملکوں کو حب الوطنی کے ذریعہ آباد کر رکھا ہے : عَمَّرَ اللهُ البُلْدَانَ بِحُبِّ الأَوْطَانِ (التذكرة لابن حمدون البغدادی، اثر نمبر 407)۔ اس قول میں ایک فطری حقیقت کو بتایا گیا ہے۔ یہ انسان کی فطرت میں شامل ہے کہ اس کو اپنے وطن سے محبت ہو۔ اسی محبت کے زور پر بستیاں اور شہر آباد ہوتے ہیں۔ اب اگر اس حقیقت کو سامنے رکھا جائے کہ یہ فطرت خود خدا کی پیدا کی ہوئی ہے تو حب وطن بھی ایک ایمانی صفت نظر آئے گی ، کیوں کہ ایمان فطرت انسانی ہی کا ایک مظہر ہے۔ ”حُبُّ الْوَطَنِ مِنَ الإِيْمَانِ“ (وطن سے محبت ایمان کا جزء ہے) اگرچہ حدیث رسول نہیں۔ مگر میں سمجھتا ہوں کہ اس میں جو بات کہی گئی ہے ، وہ بذات خود ایک درست بات ہے۔ (ڈائری، 29 فروری 1996) رسول اللہ کی وطن سے محبت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم جب مجبورانہ طور پر مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ جانے لگے تو اُس وقت آپ نے مکہ کی طرف دیکھ کر فرمایا: وَاللَّهِ إِنَّكِ، لَخَيْرُ أَرْضِ اللَّهِ، وَأَحَبُّ أَرْضِ اللَّهِ إِلَيَّ، وَاللَّهِ لَوْلَا أَنِّي أُخْرِجْتُ مِنْكِ، مَا خَرَجْتُ (سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 3108)۔ یعنی، اے مکہ، تو مجھے دنیا بھر میں سب سے زیادہ عزیز ہے۔ مگر تیرے باشندے مجھے یہاں رہنے نہیں دیتے۔ بعد کو جب مکہ فتح ہوا تو آپ کے لیے پورا موقع تھا کہ آپ مکہ کو دوبارہ اپنی قیام گاہ بنالیں۔ مگر آپ مدینہ واپس چلے گئے اور آخر عمر تک وہیں رہے۔ حتیٰ کہ آپ کی وفات کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page