Urdu book · وطن سے محبت: اسلامی فکر کی روشنی میں

قوم اور قومیت

Urdu book, p. 21

By Maulana Wahiduddin Khan

(home land) کو قومیت کی بنیاد سمجھا جاتا ہے۔ اسلام کا اصول بھی یہی ہے۔ اسلام کے مطابق بھی وطن ہی قومیت کی بنیاد ہے۔ اس اعتبار سے دو قومی نظریہ ایک غیر اسلامی نظریہ ہے۔ دو قومی نظریہ مسلمانوں میں یہ ذہن پیدا کرتا ہے کہ ہم الگ قوم ہیں اور دوسرے لوگ الگ قوم۔ جب کہ صحیح اسلامی ذہن یہ ہے کہ مسلمان اپنے آپ کو دوسروں کا ہم قوم سمجھیں، وہ دوسروں کو اے میری قوم کے لوگ، کہہ کر خطاب کر سکیں، جیسا کہ تمام پیغمبروں نے کیا۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے: اے لوگو، ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا۔ اور تم کو شعوب اور قبائل میں تقسیم کر دیا تا کہ تم ایک دوسرے کو پہچانو (49:13)۔ اس آیت میں شعب سے مراد وطنی اشتراک سے بننے والی قوم ہے اور قبیلہ سے مراد نسلی اشتراک سے بننے والا گروہ۔ قرآن کے مطابق، یہ دونوں قسم کی گروہ بندی صرف تعارف کے لیے ہے، وہ عقیدہ یا مذہب کے رشتہ کو بتانے کے لیے نہیں۔ 1947 سے پہلے کے دور میں مولانا حسین احمد مدنی نے کہا تھا کہ ”فی زمانہ قومیں اوطان سے بنتی ہیں“۔ مولانا موصوف کا یہ بیان بجائے خود درست تھا۔ مگر میں سمجھتا ہوں کہ اُس میں فی زمانہ (موجودہ زمانہ) کی شرط درست نہ تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ قوم ہمیشہ وطن ہی کی بنیاد پر تشکیل پاتی رہی ہے۔ موجودہ زمانہ میں صرف یہ ہوا ہے کہ دوسری بہت سی چیزوں کی طرح، اس معاملہ میں بھی تعین اور تشخص کے لیے جدید طریقے استعمال کیے گئے۔ مثلاً پاسپورٹ میں قومیت کا اندراج، جب کہ پہلے پاسپورٹ کا طریقہ رائج نہ تھا، بین الاقوامی حقوق کے تعین کے لیے قومیت کی قانونی تعریف، ملک کی نسبت سے کسی قوم کے افراد کے حقوق کو قانون کی زبان میں متعین کرنا، وغیرہ۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ قوم کا لفظ موجودہ زمانہ میں بھی اصلاً اسی معنیٰ میں بولا جاتا ہے جس معنیٰ میں وہ قدیم زمانہ میں بولا جاتا تھا، صرف اس فرق کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page