ہندوستانی قومیت
Urdu book, p. 32
By Maulana Wahiduddin Khan
جو روش چاہیں اختیار کریں۔ وحدت کے ساتھ تنوع، اور تنوع کے ساتھ وحدت کے اسی اصول میں کسی سماج کی کامیابی کا راز چھپا ہوا ہے۔ خاندان ہی جیسا معاملہ بڑے پیمانے پر قوم کا بھی ہے۔ یہاں بھی ایک قومی انٹرسٹ ہے، اور دوسرا انفرادی انٹرسٹ۔ اگر ان دونوں کی علاوہ علاحدہ رعایت کی جائے اور ان میں کنفیوز نہ کیا جائے تو نیشن کا معاملہ درست طور پر چلتا رہے گا۔ اور اگر دونوں کے فرق کو نظر انداز کر دیا جائے اور غیر ضروری طور پر نظریاتی رولر چلا کر دونوں کو ایک کرنے کی کوشش کی جائے تو اس کے بعد یہ مسئلہ سادہ طور پر ایک سماجی مسئلہ نہیں رہتا، بلکہ وہ ایسے میدانِ جنگ کا مسئلہ بن جاتا ہے جو کبھی حل نہ ہو سکے۔ خاندان رشتہ داری کی بنیاد پر بنتا ہے اور قوم وطن کی بنیاد پر بنتی ہے۔ قومیت کا سادہ اصول یہ ہے کہ ایک زمینی خطہ میں جو لوگ رہتے ہیں وہ سب ایک قوم ہیں۔ مثلاً انڈیا میں جو ہندو، مسلمان، سکھ، عیسائی، پارسی، رہتے ہیں وہ سب کے سب ایک قوم ہیں۔ خواہ اس واحد قوم کو ہندوستانی کہا جائے یا اس کو انڈین یا بھارتی کا نام دیا جائے۔ ہندوستانی قومیت کے اس انسانی مجموعہ میں ایک چیز کا من ہے، اور اسی کے ساتھ کچھ چیزیں ایسی ہیں جو انفرادی حیثیت رکھتی ہیں۔ وہ چیزیں جن کا تعلق انڈیا کی انٹیگریٹی یا اس کے مجموعی مادی انٹرسٹ سے ہو، اس میں اس خطۂ ارض میں بسنے والے ہر آدمی کا نقطۂ نظر ایک ہوگا۔ مثلاً کشمیر کا مسئلہ کسی مسلمان کے لیے مسلم مسئلہ نہیں ہوگا بلکہ وہ اس کے لیے صرف انڈین مسئلہ ہوگا۔ اسی طرح پنجاب کا مسئلہ کسی سکھ کے لیے سکھ مسئلہ نہیں ہوگا بلکہ وہ اس کے لیے انڈین مسئلہ ہوگا۔ اسی طرح آسام کا مسئلہ کسی کرسچین کے لیے کرسچین مسئلہ نہیں ہوگا بلکہ وہ اس کے لیے انڈین مسئلہ ہوگا۔ اسی طرح وہ تمام مسائل جن سے ملک کا مجموعی سیاسی، معاشی، جغرافی انٹرسٹ وابستہ ہو، ان میں کسی بھی فرد یا کمیونٹی کی سوچ علاحدہ نہیں ہوگی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader