ہندوستانی قومیت
Urdu book, p. 33
By Maulana Wahiduddin Khan
مگر اس مشترک نیشنل انٹرسٹ کے باہر بہت سی چیزیں ہیں جن کا تعلق انفرادی ذوق سے ہے۔ ان دوسرے پہلوؤں میں ہر ایک کو اپنے نجی دائرہ میں آزادی حاصل ہوگی۔ مثلاً مذہب، خوراک، لباس، زبان، رہن سہن، شادی بیاہ، جیسے معاملات میں ہر ایک کو اپنے محدود دائرہ میں آزادی ہوگی کہ وہ اپنی انفرادی پسند کے مطابق جو انداز چاہے اس کو اختیار کرے۔ یہی طریقہ آج تمام ترقی یافتہ ملکوں میں رائج ہے۔ اس انفرادی آزادی پر اگر کوئی شرط لگائی جاسکتی ہے تو وہ صرف یہ کہ کسی کو اپنی آزادی اس حد تک نہیں بڑھانا چاہیے کہ وہ دوسرے کی آزادی میں خلل اندازی کا سبب بن جائے۔ اس معاملہ میں وہی اصول صادق آتا ہے جو ایک امریکی شہری نے راستہ پر چلنے والے اپنے ایک ہم وطن سے اس وقت کہا تھا جب کہ اس نے اپنی آزادی کا غلط استعمال کرتے ہوئے اپنا ہاتھ اس کی ناک پر مار دیا تھا۔ اس نے کہا کہ یہ صحیح ہے کہ تم کو آزادی حاصل ہے۔ مگر تمہاری آزادی وہاں ختم ہو جاتی ہے جہاں سے میری ناک شروع ہوتی ہے: Your freedom ends where my nose begins. حقیقت یہ ہے کہ ہمالیہ پہاڑ اور بحرہند کے درمیان واقع ایک زمینی خطہ جس کو ہمارے دستور نے ”انڈیا“ کے طور پر ڈیفائن کیا ہے، اس میں بسنے والا ہر آدمی انڈین ہے۔ یہ سب کے سب لوگ ایک قوم ہیں۔ سب کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایک ہی قومی سوچ کو اپنی شناخت بنائیں اور باہم مل جل کر زندگی گزاریں۔ مگر اس وسیع قومی مجموعہ کے اندر جو افراد آباد ہیں، اپنے نجی دائرہ میں ان کا طرز زندگی (mode of life) یکساں نہیں ہوسکتا۔ اور نہ کسی بھی ملک میں وہ یکساں ہے۔ پہلے دائرہ کے لیے فطرت کا تقاضا ہے کہ سب کا طرز فکر ایک ہو۔ مگر عین اسی فطرت کا یہ تقاضا بھی ہے کہ نجی دائرہ میں ان کے درمیان تنوع پایا جائے۔ ایک ماں باپ سے پیدا ہونے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader