Urdu book · وطن سے محبت: اسلامی فکر کی روشنی میں

وطن سے محبت: اسلامی فکر کی روشنی میں

Urdu book, p. 41

By Maulana Wahiduddin Khan

موجودہ زمانہ میں مسلم رہنماؤں نے نیشنلزم اور حب الوطنی کے خلاف اتنا زیادہ غوغا برپا کیا کہ اب وہ کثیر تعداد مسلمانوں کی نفسیات کا جزء بن گیا ہے۔ اس کے لیے ایک دلیل یہ دی گئی کہ موجودہ نیشنلزم اور حب الوطنی سے مسلمانوں کا تشخص مٹ جائے گا، وہ ایک مستقل ملت کی حیثیت سے اپنا وجود ختم کر دیں گے۔ مگر یہ خطرہ صرف بے شعوری کی پیدا وار تھا۔ زیادہ اہم بات یہ تھی کہ اس کے نتیجہ میں مسلمان علیحدگی پسندی کا شکار ہو گئے۔ اور پھر ان کے ساتھ عملًا یہ پیش آیا کہ ایک طرف ان کی دنیوی ترقی رک گئی تو دوسری طرف ان کے دین کے تعلق سے عام انسانوں میں بہت سی غلط فہمیاں پیدا ہو گئیں۔ (ناگپور کا سفر (1994) امیر بھارت، غریب امریکا ایک بار مدرٹریسا (1997-1901) امریکا میں مدعو کی گئیں وہ ایک بڑے جلسہ میں شریک ہوئیں جس میں صدر امریکا بھی موجود تھے۔ اس موقع پر مدرٹریسا سے کچھ بولنے کی فرمائش کی گئی اپنی بات شروع کرتے ہوئے انھوں نے پہلا جملہ یہ کہا: میں امیر بھارت سے غریب امریکا میں آئی ہوں۔ ان کا مطلب یہ تھا کہ امریکا اگرچہ مادی اعتبار سے امیر ہے مگر روحانی اعتبار سے وہ مفلس ہے، جب کہ بھارت مادی اعتبار سے پیچھے ہونے کے باوجود روحانی اعتبار سے امریکا سے آگے ہے۔ مدرٹریسا البانیہ میں پیدا ہوئیں۔ نوجوانی کی عمر میں انھوں نے انڈیا کی شہریت اختیار کر لی۔ اس کے بعد انھوں نے سچ مچ انڈیا کو اپنا وطن بنا لیا۔ مذکورہ جملہ احساس وطنیت کے تحت نکلا ہوا جملہ ہے بہت سے لوگ جو انڈیا ہی میں پیدا ہوئے ہیں۔ اس کے باوجود وہ مذکورہ قسم کے احساس وطنیت سے محروم ہیں۔ (ڈائری، 12 اکتوبر 1997)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page