یہ اسلام نہیں
Urdu book, p. 42
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ اسلام نہیں رپورٹ کے مطابق، امریکا کی فوج میں پندرہ ہزار مسلمان ہیں۔ یہ لوگ ایک قسم کے نفسیاتی بحران میں مبتلا ہیں۔ وہ یہ کہ وہ امریکا کی فوج میں شامل ہو کر ایک مسلم ملک عراق کے خلاف جنگ کریں یا نہ کریں۔ بتایا گیا ہے کہ ایک امریکی مسلمان جس کا نام اکبر تھا اور کویت میں امریکی فوج کے ساتھ تھا، اس نے ذہنی پریشانی کے عالم میں امریکی فوجیوں کے ایک کیمپ پر گرینیڈ سے حملہ کر دیا اور چھ امریکیوں کو مار ڈالا۔ میرے نزدیک اس معاملہ میں امریکی مسلمانوں کے لیے جو چوائس ہے، وہ یہ نہیں ہے کہ وہ امریکی فوج میں شامل ہو کر مسلم ملک کے خلاف لڑیں یا نہ لڑیں۔ حقیقی چوائس صرف یہ ہے کہ وہ امریکی شہریت کو قبول کریں یا شہریت کو چھوڑ کر امریکا سے باہر آ جائیں۔ میرے نزدیک یہ ایک منافقانہ (double standard) روش ہے کہ امریکا کی شہریت لے کر وہاں کی مادی سہولتوں سے فائدہ اٹھایا جائے اور جب امریکا کو کوئی قومی لڑائی پیش آئے تو اس لڑائی میں امریکا کا ساتھ نہ دیا جائے۔ آج کل اُمہ کا جو تصور مسلمانوں میں پھیلا ہوا ہے، مجھے اس سے اتفاق نہیں۔ میرے نزدیک مسلمان اپنے مذہب کے اعتبار سے عالمی امت ہیں۔ مگر وطن کے اعتبار سے ان کی وفاداریاں اسی طرح اپنے وطن کے ساتھ ہونی چاہئیں، جس طرح دوسری قوموں کے لوگ اپنے مذہب کے اعتبار سے الگ تشخص رکھنے کے باوجود وطنی معاملات میں بقیہ اہل وطن کے ساتھ ہوتے ہیں۔ (ڈائری، 26 مارچ (2003

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader