ایک سینئر سٹیزن کی زبانی
Urdu book, p. 52
By Maulana Wahiduddin Khan
brain and Islam body. (Letters of Swami Vivekananda, Letter No. 271, p. 427) انھیں سہانی یادوں کے ساتھ میرے دن گزرتے رہے۔ میں اپنے دائرے میں آزادی کی سرگرمیوں میں شریک رہا۔ مثلاً میں نے آزادی سے پہلے منو (یوپی) جا کر جواہر لعل نہرو (1964-1889) کی تقریر سنی۔ مجھے یاد ہے کہ لوگ ٹرینوں اور بسوں کی چھت پر بیٹھ کر منو پہنچے تھے۔ اسی طرح میں نے پھول پور (اعظم گڑھ) کے ایک جلسہ میں شریک ہو کر سباش چندر بوس (1945-1897) کی تقریر سنی۔ جیسا کہ معلوم ہے کہ سباش چندر بوس نے آزاد ہند فوج 1942 میں بنائی تھی۔ ان کا نعرہ یہ تھا: Give me blood, and I will give you freedom. اسی طرح میں نے ایک سوشلسٹ اجتماع (gathering) میں شریک ہو کر جے پرکاش نارائن (1979-1902) کی تقریر سنی۔ یہ جلسہ اعظم گڑھ میں ہوا تھا۔ جیسا کہ معلوم ہے جے پرکاش نارائن بعد کو لوک نائک کے خطاب سے مشہور ہوئے۔ اس طرح میری نوجوانی کے دن گزر رہے تھے۔ یہاں تک کہ 15 اگست 1947ء کا دن آ گیا۔ 15 اگست 1947ء کی رات کو میں نے وہ تاریخی تقریر تو نہیں سنی، جس میں اس وقت کے وائسرائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن (1979-1900) نے رات کو 12 بج کر ایک منٹ پر آل انڈیا ریڈیو سے اعلان کیا تھا: Today, India is free میں وائسرائے کی تقریر کو ریڈیو پر تو نہیں سن سکا، لیکن بہت سے دوسرے لوگوں کی طرح میں نے اگلے دن صبح کو اخبار میں پڑھا۔ 15 اگست 1947ء کو میں اعظم گڑھ میں تھا۔ مجھے یاد ہے کہ رات کے وقت جب میں اپنی قیام گاہ سے باہر نکلا، اور شہر کی سڑکوں پر پہنچا تو میرے چاروں طرف خوشی کے دیے جل رہے تھے۔ پورا شہر روشنی میں ڈوبا ہوا تھا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader