Urdu book · وطن سے محبت: اسلامی فکر کی روشنی میں

ایک سینئر سٹیزن کی زبانی

Urdu book, p. 53

By Maulana Wahiduddin Khan

اب وہ روشنی بجھ چکی ہے، لیکن اب وقت آگیا ہے کہ ہم سب لوگ مل کر ایک نئے دور کے آغاز کا دیا جلائیں — وہ ہے انڈیا کی نئی تعمیر کا دور۔ وہ دور جس کا خواب سوامی وویکانندا نے دیکھا تھا۔ وہ دور جس کی یاد میں مہاتما گاندھی نے اپنی جان دے دی۔ وہ دور جس کا آخری صفحہ لکھنے کے لیے شاید انڈیا کا مورخ انتظار کر رہا ہے۔ میں اب 90 پلس ہو چکا ہوں۔ لیکن میری امیدیں ابھی تک باقی ہیں۔ میرا معمول ہے کہ میں روزانہ صبح کو اپنے کمرے سے نکل کر باہر بیٹھ جاتا ہوں، اور صبح کے سورج کے نکلنے کا انتظار کرتا رہتا ہوں۔ مجھے یاد ہے کہ ایک مرتبہ 15 اگست پر ہونے والے ایک پروگرام میں میں نے کسی شاعر کی زبان سے سنا تھا: برج محن سے نکلا سورج روشن اپنا مستقبل ہے میں روزانہ طلوع سورج (sunrise) کا منظر اس امید سے دیکھتا ہوں کہ شاید آج کی صبح وہی صبح ہو، جس کے اشتیاق میں ایک فریڈم فائٹر نے ایک کتاب لکھی تھی، جس کا ٹائٹل تھا: روشن مستقبل۔ میں ہر دن نکلنے والے سورج کا استقبال ان الفاظ میں کرتا ہوں — وہ صبح کبھی تو آئے گی، وہ صبح کبھی تو آئے گی ۔ انڈیا نے پیس فل اسٹرگل (peaceful struggle) کے ذریعے اپنی تاریخی آزادی حاصل کی تھی۔ اب انڈیا کی تعمیر نو کا کام بھی صرف پیس فل اسٹرگل کے ذریعے انجام دیا جا سکتا ہے۔ انڈیا نے پیس فل اسٹرگل کے ذریعے آزادی حاصل کر کے ایک تاریخ بنائی تھی، اب دوبارہ وقت آ گیا ہے کہ انڈیا کی تعمیر نو کا کام پیس فل اسٹرگل کے ذریعے انجام دیا جائے ۔ انڈیا کی طاقت پہلے بھی امن تھی ، آج بھی امن (peace) ہے، اور آئندہ بھی امن ہی اس کی طاقت بنی رہے گی ۔ 15 اگست 2020 کو انڈیا نے اپنا چوہترواں (74th) یوم آزادی منایا ۔ اب

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page