Urdu book · زلزلۂ قیامت

دعا آدمی کی پوری ہستی سے نکلتی ہے

Urdu book, p. 12

By Maulana Wahiduddin Khan

مارشل اسٹالن (۱۹۵۳ - ۱۸۷۹) تاریخ کے پہلے ملحدانہ نظام کے سربراہ تھے۔ ان کو ۳۰ سال تک انتہائی مطلق العنانی کے ساتھ حکومت کرنے کا موقع ملا۔ نگران کی موت اتنے بھیانک حالات میں ہوئی کہ ان کی اکلوتی لڑکی سویتلانا نے الحاد کو چھوڑ کر مذہبی زندگی اختیار کرلی۔ "میرا باپ ایک مشکل اور بھیانک موت مرا" سویتلانا لکھتی ہے "یہ پہلا موقع تھا کہ میں نے کسی شخص کو مرتے ہوئے دیکھا۔ ہیمورج آہستہ آہستہ اس کے دماغ کے بقیہ حصوں میں پھیل رہا تھا۔ چوں کہ اس کا دل صحت مند اور مضبوط تھا۔ اس نے سانس کے مرکز کو بتدریج متاثر کیا اور اس کی وجہ سے گلا گھٹنے کی سی کیفیت پیدا ہوگئی۔ اس کی سانس کم سے کم ہوتی جا رہی تھی۔ آخری بارہ گھنٹوں میں آکسیجن کی کمی بڑی سنگین تھی ۔ اس کا چہرہ بدل گیا اور کالا ہوگیا اور اس کے ہونٹ بھی سیاہ پڑ گئے اور شکل پہچانی نہی مشکل ہوگئی۔ آخری لمحات میں اس پر اختناق کی حالت طاری تھی۔ موت کی تکلیف ہولناک تھی۔ دیکھنے والے کو ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے اس کا گلا گھونٹا جا رہا ہے۔ بالکل آخری لمحات میں اچانک اس نے آنکھ کھول دی اور کمرہ کے ہر شخص پر ایک نظر ڈالی۔ یہ دیکھنے کا منظر بھی بڑا بھیانک تھا۔ وہ باقلا ہورہا تھا یا غصہ میں تھا۔ اس پر دہشت طاری تھی۔ شاید موت کے ڈر سے اور ڈاکٹروں کے نامانوس چہروں سے جو اس کے اوپر جھکے ہوئے تھے۔ اس کی نظر ایک سکینڈ میں سب کے اوپر سے گزر گئی ۔ تب ایک ہولناک اور ناقابل فہم واقعہ ہوا۔ جس کو آج تک میں نہیں بھلا سکی ہوں اور نہ سمجھ سکی ہوں۔ اس نے اچانک اپنا دایاں ہاتھ اٹھایا جیسے وہ اوپر کسی چیز کی طرف اشارہ کرنا چاہتا تھا۔ اور کوئی آتا ہوا عذاب ہم سب پر ڈال دینا چاہتا تھا۔ اشارہ ناقابل فہم تھا اور خوف سے بھرا ہوا تھا۔ کوئی شخص نہیں کہہ سکتا کہ وہ کس کی طرف یا کس چیز کی جانب اشارہ کرنا چاہتا تھا۔ اگلے لمحہ ایک آخری کوشش کے بعد جھٹکا ہوا اور جان اس کے جسم سے نکل گئی۔ (انڈین ایکسپریس ۱۲ ستمبر، ۱۹۷۰) غیر اسلامی زندگی یہ ہے کہ آدمی کی سرگرمیوں کا رخ دنیا کی طرف ہو جائے ۔ اس کو اپنے مادی مفادات سے دلچسپی ہو، وہ اپنے دنیوی مستقبل کی تعمیر میں لگا ہوا ہو۔ وہ انھیں چیزوں کے لئے متحرک ہوتا ہو جس میں اس کے دنیوی معاملات درست ہوتے ہوں، جس میں اس کی شخصیت چمکتی ہو، جس میں اس کے احساس برتری کو تسکین ملتی ہو۔ اس کے برعکس اسلامی زندگی آخرت رخی زندگی (Akhirat-oriented life) ہوتی ہے۔ مومن کی دلچسپیوں کا مرکز آخرت ہوتا ہے۔ وہ ہمیشہ اخروی مستقبل کی فکر میں رہتا ہے۔ اس کو خدا کے یہاں سرخرو ہونے کا شوق رہتا ہے نہ کہ دنیا میں اپنی امیج بنانے کا۔ اس کی توجہ، اس کی تمنائیں، اس کی سرگرمیاں سب آخرت کے گھر کو بنانے کی طرف لگی رہتی ہیں۔ مختصر یہ کہ غیر مومن دنیا میں زندگی گزارتا ہے اور مومن آخرت میں۔ غیر مومن مرنے کے بعد اپنی آخرت کو دیکھے گا اور مومن دنیا میں رہتے ہوئے آخرت کے عالم میں پہنچ جاتا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page